اولڈ ہوم والوں کو لکھ کر دے دیا ہے کہ مر جاؤں تو اولاد میری شکل بھی نہ دیکھے ، میری میت کو ہاتھ تک نہ لگائے ۔۔۔۔ شوہر معروف ٹی وی چینل میں جنرل مینجر اور بیٹا عسکری بنک میں افسر تھا مگر ہائے قسمت ۔۔۔۔۔ لاہور کی اس خاتون کی کہانی یہ ہے کہ جب تک انکے شوہر زندہ تھے یہ گھر کی رانی تھیں ، 15 سال قبل شوہر کا انتقال ہوا تو بڑے بیٹے نے انہیں سنبھال لیا ۔ یہ بیٹا بنک افسر تھا انکے ساتھ بھی یہ بہت خوش تھیں ہر چیز وقت پر انہیں بیٹھے بٹھائے مل جاتی ، خود پری جیسی دلہن بیٹے کے لیے ڈھونڈی اور اسکی شادی کردی مگر قدرت کو شاید کچھ اور منظور تھا ، بنک افسر بیٹا ایک روز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا ۔اسکی بیوی بچوں کو لیکر عدت اپنے میکے گزارنے چلی گئی اور پیغام بھی دے دیا کہ میرا سامان بھجوا دیں میں نے واپس نہیں آنا۔۔۔ اب اس خاتون کے برے دن شروع ہوئے چھوٹے بیٹے کے گھر منتقل ہوئیں تو اسکی بیوی نے انکا جینا دوبھر کر دیا ، حالانکہ انکی پنشن تھی اور وہ کسی پر مالی اخراجات کا بوجھ نہیں بن رہی تھیں لیکن چھوٹٰی بہو نے بات بات پر لڑنا شروع کردیا ۔ یہ ایک کونے میں پڑی رہتیں نماز پڑھتیں قران مجید کی تلاوت میں وقت گزارتیں ایک روز بہو نے انہیں گریبان سے پکڑ کر کہا کہ نکل جاؤ میرے گھر سے ، بیٹا پاس کھڑا سب دیکھ رہا تھا ۔اسکو شرم نہیں آئی کہ مرد ہو کر ماں کی تذلیل دیکھتا رہا ۔۔۔ یہ خاتون صبر کر گئیں ، اگلے روز انہیں نہ تو ناشتہ دیا گیا اور نہ دوپہر کا کھانا ، جب مانگ لیا تو بہو نے کہا یہاں لنگر خانہ نہیں کھلا ہوا ۔۔۔۔۔ اسکے بعد یہ اٹھیں ، ہمسائی کے پاس گئیں اور اسکی منت کی کہ اسے کسی دارالامان یا اولڈ ہوم کا پتہ بتا دے ۔۔۔۔ اس خاتون نے نیکی کی شام تک اولڈ ہوم ڈھونڈا اور اس خاتون کو خود اپنی گاڑی میں یہاں چھوڑ گئی۔۔۔ بیٹے کو نہ شرمندگی ہوئی اور نہ اللہ کا خوف،، دو روز بعد وہ آیا ماں کے کپڑے ، پنشن کارڈ شناختی کارڈ دے گیا اور صرف اتنا کہا : ماں میں مجبور ہوں۔۔۔ جواب میں اس خاتون نے کہا بیٹا میں نے تمہیں معاف کیا جاؤ اللہ کے حوالے ۔۔۔مگر میں مر جاؤں تو بھی ادھر آنے کی تکلیف نہ کرنا میں آج تمہارے لیے مر گئی ، میرے کفن اور دفن کا انتظام بھی اولڈ ہوم والے کریں گے تم میری میت کا آخری دیدار بھی نہ کرنا ورنہ مجھے تکلیف ہو گی ۔۔

0 Comments