Showing posts with the label Urdu StoriesShow all
جیسے ہی شوہر کو پتہ چلا کہ میں نے اپنی ساس کو اپنا ایک گردہ دے دیا ہے تو اگلے ہی دن شوہر حمزہ نے ہسپتال کے کمرے میں میرے اوپر
چار بیٹے اپنی ماں کے بارے میں جھگڑا کر رہے تھے۔ کوئی بیٹا بھی ماں کی کفالت کرنے کے لیے آمادہ نہیں تھا جبکہ
میرا بھائی اپنی شادی پر بے حد خوش تھا کہ سالوں بعد اسے اسکی محبت مل رہی تھی۔ شادی کے روز وہ
بہو روز سسر کو طعنہ دیتی کہ آپ گھر میں بیٹھ کر صرف خرچہ بڑھاتے ہیں ایک دن بیٹے نے ان کا اے ٹی ایم کارڈ لے لیا اور کہا اب
میرے ابا پکوڑے سموسے بناتے تھے اور میں گھر پر رہ کر ان کی ہیلپ کرتی تھی کیونکہ میری امی مجھ
ہمارے گھر میں ایک ماسی پچھلے 15 سال سے کام کر رہی تھی، جو ہمیشہ ہمارے اترن پہنتی۔ اسکے اچانک انتقال پر ہمیں اسکے سامان سے
میں سعودی عرب میں ٹرک چلاتا تھا، جدہ سے ریاض مال لے جارہا تھا کہ رات 2 بجے ہائی وے پر ایک سفید داڑھی والے بزرگ نے
تم میری بیٹی سے شادی کر لو میں تمہیں ایک کڑور روپے دوں گا بوس نے مجھے کہا تو میں فورامان گیا مجھے اپنی بیمار ماں
میں ایک امیر گھر میں سولہ سال ملازمہ رہی مگر ڈرائنگ روم میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ملی مالک کی وفات کے بعد سب
چھوٹی بہن کی شادی پر امی نے میرج حال کی ادائیگی پر بطورِ ضمانت مجھ سے دستخط کروالیے، مگر شادی کے دن امی نے
جیسے ہی شوہر کو پتہ چلا کہ میں نے اپنی ساس کو اپنا ایک گردہ دے دیا ہے تو اگلے ہی دن شوہر حمزہ نے ہسپتال کے کمرے میں میرے اوپر
میرے بیٹے نے اپنی لالچی بیوی کے طعنوں میں آکر مجھ سے دھوکے سے خاندانی بنگلے کے کاغذات پر دستخط کر والیے اور اگلی صبح مجھ
شوہر اپنے آفس کی دعوت میں مجھے سب کے سامنے گاؤں کی سادہ عورت کہہ کر ہنس رہا تھا اور نئی سیکرٹری مسکرارہی تھی میں
میری ماں مجھے اکثر میری سگی خالہ کے گھر جانے سے منع کرتی میں چوری چھپے چلا جاتا ماں کو پتہ چلتا تو بہت غصہ کرتی میں پوچھتا تو ماں کہتی کہ
اں ہر نماز کے بعد میرے لئے دعا کرتی مگر نہ کوئی مجھے کام پر رکھتا اور نہ میری اولاد ہو رہی تھی اور گھر میں ہر وقت جھگڑا رہتا ایک دن
جب ڈاکٹر نے الٹرا ساؤنڈ کر کے بتایا کہ آپکا بیٹا معزور پیدا ہو گا تو شوہر حمل ضائع کرنے کے لیے پریشر ڈالتا رہا مگر میری
مجھے فالج کا اٹیک ہوا تو بیٹے نے مجھے ہسپتال شفٹ کر کے اپنے سسرال والوں کے ہمراہ گھر اور کمپنی پر مکمل قبضہ کر لیا، پانچ سال بعد ایک دن
میں نے اپنی گیارہ سال کی جمع پونجی سے گھر بنایا تو پہلی رات ہی میری امی ثمینہ کا فون آیا کہ تم تو بے اولاد عورت ہو اس لیے
اوئے جلدی سے میرے بوٹ پالش کر مجھے اسسٹنٹ کمشنر سے ملنے جانا ہے میں تایا ابو کی بات سن کر دل ہی دل میں
میں شادی کے ایک مہینے بعد ہی بیرون ملک آگیا۔ میں جب بھی گھر فون کرتا تو میری امی میری بیوی کی برائیاں شروع کر دیتیں میں حیران تھا کہ