سلیم البیلا :خدا ایسا دکھ ایسا دن کبھی کسی کو نہ دکھاۓ جیسا آج میں

 


میں نے اپنے بچوں کے لیے بہت کچھ کیا مگر انہوں نے مجھے مایوس کردیا ہے ، کچھ سمجھ نہیں آتا انکا کیا بنے گا ؟ کامیڈین اداکار سلیم البیلا کی زندگی کے دو دکھڑے ۔۔۔۔ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے سلیم البیلا نے بتایا کہ کچھ سال پہلے جب وہ ایک ڈرامے کے سلسلے میں کراچی گئے ہوئے تھے تو یہاں لاہور میں انکے والد کا ایک ٹرین حادثے میں انتقال ہو گیا تین دن انکا کچھ پتہ نہ چلا اور جب گھر والوں اور رشتہ داروں نے ہر طرف سے مایوس ہو کر تھانے اطلاع دی تو پتہ چلا کہ وہ تو ٹرین کی زد میں آگئے تھے اور سرد خانے منتقل کر دیے گئے تھے ۔۔۔۔ انکی موت کا غم اس لیے ہے کہ جب وہ حیات تھے تو ہم کرائے کے مکان میں رہتے تھے اور اب جب اپنا ذاتی اور خوبصورت مکان ہے تو والد صاحب نہیں رہے، کاش وہ ہوتے گھر میں رہتے اور میرے بچوں کو بھی کچھ جینے کا ڈھنگ سکھاتے کیونکہ میری پہلی بیوی فوت ہوگئی اور میں نے دوسری شادی کی ، پہلی شادی سے اپنے بچوں کو پڑھایا لکھایا انکی شادیاں کیں انہیں اچھا کھلایا پلایا مگر وہ ہر وقت فارغ گھر پر یا باہر رہتے ہیں ، انہیں صرف اتنا پتہ ہے کہ باپ کما رہا ہے اور ہم کھا رہے ہیں ، کل کو میں نہ رہا یا میرا کام نہ رہا تو انکا کیا بنے گا ، خدانخواستہ کیا بھیک مانگیں گے ۔۔۔۔۔دوسری بیگم سے بھی بچے ہیں جو ابھی چھوٹے ہیں اور پڑھ رہے ہیں کاش میں اپنی زندگی میں اولاد کو گھروں میں بستا اور خود کماتا اور کھاتا دیکھ لوں ۔۔۔۔


Post a Comment

0 Comments