عورت کا یہ بھی روپ ہو سکتا ہے کیا استغفراللہ

 





کچے کے ڈاکوؤں تک پنجاب سے لڑکیاں پہنچانے والے مبینہ نیٹ ورک کا چونکا دینے والا انکشاف — شکار پور پولیس کی کارروائی میں حسینہ نامی خاتون گرفتار

پہلی تصویر حسینہ نامی خاتون کی ہے جو گرفتاری سے قبل صادق آباد میں مقیم تھی، جبکہ باقی تین تصاویر لاہور کی تین لڑکیوں کی ہیں جنہوں نے اپنی دردناک کہانی پولیس کو بیان کی۔لاہور کی رہائشی کائنات نامی لڑکی کے مطابق وہ نیشنل ہسپتال لاہور میں بطور نرس کام کرتی تھی اور مختلف علاقوں کی سیر و سیاحت کا شوق رکھتی تھی۔ انہی دنوں اس کی ملاقات عمران نامی ملتان کے ایک نوجوان سے ہوئی جس نے اسے صادق آباد آنے کی دعوت دی۔ عمران نے لڑکی کو یقین دلایا کہ وہاں کچھ بااثر لوگ موجود ہیں جو اس کے رشتے میں دلچسپی رکھتے ہیں، ساتھ ہی سیر بھی ہو جائے گی اور مستقبل بھی سنور سکتا ہے۔کائنات نے اپنی دو سہیلیوں کو بھی ساتھ چلنے پر آمادہ کیا اور یوں تینوں لڑکیاں عمران کے ساتھ صادق آباد پہنچ گئیں۔ ابتدائی طور پر انہیں حسینہ نامی خاتون کے گھر ٹھہرایا گیا، بعد ازاں روہڑی لے جایا گیا جہاں سے تین موٹر سائیکلوں پر انہیں نامعلوم افراد کے ساتھ کچے کے علاقوں کی جانب منتقل کیا گیا۔لڑکیوں کے مطابق جب وہ منزل پر پہنچیں تو انہیں احساس ہوا کہ وہ کچے کے ڈاکوؤں کے قبضے میں آ چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہاں ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بیان سے باہر ہے۔ 13 دن تک مبینہ قید میں رہنے کے بعد یہ لڑکیاں کسی نہ کسی طرح وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئیں اور کئی گھنٹے پیدل سفر کے بعد ایک چنگ چی لوڈر والے کی مدد سے شکار پور پہنچیں۔متاثرہ لڑکیوں کے مطابق وہ شدید خوف اور پریشانی میں تھیں اور سمجھ نہیں پا رہی تھیں کہ کہاں جائیں۔ اسی دوران شکار پور پولیس نے انہیں مشکوک حالت میں دیکھ کر پوچھ گچھ کی اور تسلی بخش جواب نہ ملنے پر تھانے منتقل کر دیا۔ پولیس نے لڑکیوں کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر حسینہ نامی خاتون کو بھی حراست میں لیا۔ابتدائی تفتیش میں حسینہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے محض انسانیت کے ناطے لڑکیوں کو اپنے گھر میں جگہ دی تھی جبکہ اس کا شوہر رکشہ چلاتا ہے۔ تاہم پولیس تحقیقات کے مطابق حسینہ، اس کا شوہر عاشق جتوئی اور عمران مبینہ طور پر ایک ایسے گروہ کا حصہ ہیں جو پنجاب کے مختلف شہروں سے نوجوان لڑکیوں کو جھانسہ دے کر صادق آباد اور روہڑی لاتا تھا، جہاں سے انہیں کچے کے ڈاکوؤں تک پہنچایا جاتا تھا۔شکار پور پولیس کے مطابق نیٹ ورک کے مزید ارکان کی تلاش جاری ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس گیننگ کے ذریعے متعدد لڑکیوں کو پہلے بھی مبینہ طور پر اغوا یا فروخت کیا جا چکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں جن کے بعد مزید اہم انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔

Post a Comment

0 Comments