وزیراعلیٰ مریم نواز صاحبہ : کیا میں آپ کی ریڈ لائن نہیں ہوں ؟؟؟ ڈیڑھ ماہ پہلے میرے ساتھ ایک بااثر ملزم نے ظلم اور زیا۔دتی کی، مجھے نوچا اور اپنے نیچے دبوچ کر مجھے بے عزت کیا ، میں کہیں کی نہیں رہی ، تھانے گئی پرچہ درج ہوا اور چند روز بعد ملزم ضمانت کنفرم کروا کے رہا ہو گیا ، تھانے جاؤں تو پولیس والے داد رسی کی بجائے مجھے سر سے پیر تک تاڑتے ہیں ، مجھے لگتا ہے میرا ایکسرے ہو رہا ہے ، ڈی پی او دفتر میں بھی داد رسی نہیں ہوئی ، آپ کی کھلی کچہری میں آئی تو بجائے مجھے انصاف دلوانے یا کوئی ایکشن لینے کے آپ کے سٹاف نے کہا ہم سے کرایہ لے لو اور واپس گاؤں چلی جاؤ ، میڈم وزیراعلیٰ مجھے بتائیے میں کیا کروں ؟ کیا مجھے عزت سے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ، میں کس کے پاس جاؤں اور کس سے فریاد کروں ، انتہائی اقدام کے علاوہ مجھے کوئی حل نظر نہیں آرہا ، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے مجھے انصاف دے دیں میرے مجرم کو سخت سے سخت سزا دلوا دیں ۔۔۔۔۔ ساہیوال سے لاہور آکر انصاف کے لیے دھکے کھانے والی ایک بیٹی کی فریاد

0 Comments