ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب کیوں پھینکا گیا ؟ ڈاکٹر ز کا بڑا بیان نے تہلکہ مچا دیا

 


کوئٹہ: لیڈی ڈاکٹر ماہنور ناصر پر تیزاب پھینکنے کے واقعے کے خلاف ینگ ڈاکٹرز نے آج سے کوئٹہ کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی کے علاوہ تمام سروسز بند کرنے کا اعلان کردیا۔

ینگ ڈاکٹرز نے پریس کانفرنس میں تیزاب گردی کے واقعے کو سیکیورٹی کی ناکامی قرار دیا اور واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

بلوچستان کے معاون وزیر داخلہ بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز احتجاج کے بجائے محکمہ صحت سے مذاکرات کریں۔

بابر یوسفزئی نے کہا کہ وارڈ اور او پی ڈی میں سروسز بند ہونے سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ملزم کس سے رابطے میں تھا۔

واضح رہے کہ کوئٹہ کے سنڈیمن اسپتال میں تیزاب گردی کا نشانہ بننے والی لیڈی ڈاکٹر کو علاج کے لیے کراچی کے نجی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق خاتون ڈاکٹر کی گردن، سر اور چہرے پر زخم ہیں، انہیں دو روز تک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا جائے گا۔

دوسری جانب تیزاب گردی کا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ وزیر صحت بلوچستان کا کہنا ہے کہ ملزمان کئی ماہ سے لیڈی ڈاکٹر کو ہراساں کر رہے تھے۔ ملزم کے موبائل فون پیغامات میں ہراساں کرنے کے شواہد ملے ہیں۔


Post a Comment

0 Comments