قربانی کے روز گوشت اکٹھا کرنے والوں کا روپ دھار کر 1 کروڑ روپے مالیت کی نقدی زیورات چرانے والے باپ بیٹے کو کیسے
پکڑا گیا ۔۔۔؟؟ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے بتا دیا ۔۔۔۔جب پولیس کو چوری کی اس واردات کی خبر ملی تو فوری رسپانس دیا گیا ، ایک ٹیم سی سی ٹی وی کیمروں کی چیکنگ کو نکلی جب کہ دوسری ٹیم ہیومن انٹیلی جنس سے معلومات اکٹھی کرنے لگی ، اگلے کچھ گھنٹوں میں جو معلومات اور ویڈیوز سامنے آئیں وہ یہ تھیں ۔۔۔ 2 سائیکلوں پر سوار یہ باپ بیٹا لاہور کے ایک علاقہ میں ایک گھر کے سامنے رکے ، ان کا حلیہ ایسا تھا جیسے قربانی کا گوشت لینے والے ہیں ۔ دونوں نے ایک کوٹھی کے مین گیٹ پر لگی بیل دی ، کوئی شخص باہر نہ آیا ، پھر گھنٹی بجائی ، مگر کوئی جواب نہ آیا تو 10 منٹ بعد بیٹا دیوار پھلانگ کر خود اندر چلا گیا ۔ ظاہر ہے اسکے پاس دروازے اور جالیاں کاٹنے کے تمام اوزار تھے ، 1 گھنٹہ 10 منٹ بعد نوجوان باہر نکلا اور دونوں باپ بیٹا سائیکلوں پر سوار ہو کر یہاں سے نکل گئے راستے میں جہاں گوشت مل رہا تھا وہاں سے گوشت بھی لیا اور آخر کار مختلف سڑکوں سے ہوتے ہوئے ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں سے ان دونوں نے اپنے راستے بدلے ۔ لیکن پھر ایک محلے میں پہنچ کر یہ اکٹھے ہو گئے ۔ یہ انکا رہائشی محلہ تھا ۔ پولیس کی بھاری نفری معلومات لیتے ہوئے اس چھوٹے سے گھر تک جا پہنچی ، باپ بیٹا دونوں گھر میں موجود تھے ، پورے مکان کی تلاشی لی گئی مگر کچھ برآمد نہ ہوا آخر ایک نوجوان اے ایس آئی نے واش بیسن کے نچلے اور لمبے حصے میں چھپایا سونا اور نقدی برآمد کر لی جو ایک شاپر میں وہاں چھپا کر لٹکائی گئی تھی ، پولیس باپ بیٹے کو گرفتار کرکے تھانے لائی اور ریکارڈ چیک کیا گیا تو باپ پر 40 مقدمات درج نکلے جب کہ بیٹا ابھی تک پولیس ریکارڈ میں کلیئر تھا ، دونوں باپ بیٹے نے دوران تفتیش انکشاف اور اعتراف کیا کہ وہ بھیس بدل کر درجنوں وارداتیں کر چکے ہیں ۔۔۔۔۔ ریکارڈ وقت میں ملزمان گرفتار کرنے کے بعد پولیس اس کیس میں حسب ضابطہ کارروائی کررہی ہے ۔۔۔۔ ویلڈن لاہور پولیس
0 Comments