بے شرمی کی انتہا 14 سالہ لڑکا بھی شامل تھا، مگر اصل کہانی تو تب سامنے آئی جب..."

 


جو ہوا سو ہوا ، میں کارروائی نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔۔ لاہور کے نواح میں کرول پنڈ کی خاتون عزت لٹوا کر بھی خاموش کیوں رہنا چاہتی ہے ۔۔۔؟؟ اصل کہانی سامنے آگئی ۔۔۔ خاتون کا خاوند ذہنی معذور ہے وہ کوئی کام کاج نہیں کرتا ۔ بچوں کی کفالت کے لیے خاتون محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہے ۔ اسی سلسلے میں خاتون کا گاؤں کے ایک شخص کے پاس آنا جانا تھا جسے ملزمان موچی کہہ کر پکارتے تھے ۔ ان درندوں کو جلن تھی کہ خاتون اس کے پاس کیوں جاتی ہے ۔ جیسے کہ بے سہارا عورت کو مفت کا مال سمجھ کر ہڑپ کرنا اس معاشرے میں عام ہے ایسے ہی اس مجبور خاتون کو ان درندوں نے بہلا پھسلا کر اور ڈرا کر کھیتوں میں درندگی کا نشانہ بنایا ۔اور ویڈیو بناتے رہے ۔ مقام افسوس ہے کہ درندگی کا نشانہ بن کر بھی خاتون چپ تھی اس نے کسی س شکایت نہ کی کیونکہ یہ بلیک۔ میل ہو رہی تھی ۔ بچی کھچی عزت بچانے کے لیے خاتون تو چپ ہو گئی مگر اللہ نے ظالموں کی رسی کھینج لی ۔ شاید خاتون نے موچی کے پاس جانا نہ چھوڑا اور ملزمان نے طیش اور حسد میں ویڈیو اپلوڈ کرکے خود اللہ کے قہر کو دعوت دی ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 3 میں سے ایک ملزم سی سی ڈی کے ہاتھوں واصل جہنم ہو چکا ہے دو فرار ہیں جن کا تعاقب جاری ہے ۔ سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ملزمان میں ایک 14 سالہ لڑکا بھی شامل ہے جو اس شرمناک دھندے کا حصہ تھا ۔۔۔ یقین ہے کہ جلد ان کے حوالے سے بھی خبر سامنے آجائے گی ۔۔۔


Post a Comment

0 Comments