ق۔تل ہمیشہ چھپا نہیں رہ سکتا : طلاق کے باوجود سابق شوہر کے ایک اشارے پر دوڑی چلی جانیوالی 2 بچوں کی ماں کا افسوسناک انجام زندگی : زمین نے 2 ہفتے بعد لا۔ش ظاہر کردی۔۔۔۔۔اپریل کے آخری ہفتے میں ایک چرواہے نے 15 پر کال کی کہ اسے نالہ ڈیک میں ایک انسانی پیر کی انگلیاں نظر آئی ہیں ۔ چرواہا وہیں موجود رہا پولیس موقع پر پہنچی ، ابتدائی چند منٹوں میں پتہ چل گیا کہ لا۔ش کسی عورت کی ہے فوری طور پر پولیس سٹیشن سے لیڈیز پولیس بلائی گئی اور کالاشاہ کاکو کے اس علاقہ سے خواتین کی مدد طلب کرکے لا۔ش کو گڑھے سے نکالا گیا ، لا۔ش بری طرح مسخ ہو چکی تھی اور بالکل ناقابل شناخت تھی لیکن لیڈیز پولیس کو اس خاتون کے کپڑوں سے ایک سم جیکٹ ملی ۔ یہ واحد سراغ تھا جو اس کیس کو آگے بڑھانے میں بعد میں مددگار ثابت ہوا ۔ ضروری کارروائی کے بعد پولیس نے لا۔ش پوسٹ۔ مارٹم اور ڈی این اے کے لیے ہسپتال منتقل کردیا سامنے آنے والی پوسٹ۔ مارٹم رپورٹ کے مطابق لا۔ش 12 سے 15 دن پرانی تھی جسے سینے میں 3 گو۔لیاں مار کر ق۔ت۔ل کیا گیا جب کہ خاتون کی گردن کا منکا بھی ٹوٹا ہوا تھا ۔فنگرپرنٹس مسخ ہو چکے تھے ان سے تو شناخت نہ ہوئی لیکن سم کو آن کیا گیا تو فرزانہ نامی ایک خاتون کی نکلی اس سم کے کال ریکارڈ کے مطابق آخری رابطے نوید نامی ایک شخص کے ساتھ تھے ، نوید کا نادرہ ریکارڈ چیک کیا گیا تو فرزانہ اسکی بیوی نکلی جن کے دو بچے بھی تھے ۔۔پولیس نے اپنی نگرانی میں خاتون کی لا۔ش امانتا دفن کروا دی ۔ اب مسئلہ درپیش تھا کہ کیسے پتہ چلایا جائے مرنے والی کوئی اور خاتون ہے یا فرزانہ بی بی ہے ، پولیس کے مطابق سم کارڈ کی موجودگی سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا تھا کہ لا۔ش بھی فرزانہ کی تھی ۔ ریکارڈ کی مدد سے فرزانہ کی والدہ کو تھانے بلایا گیا اور اس سے فرزانہ کا پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ 2 ہفتوں سے لاپتہ ہے ۔ اسے طلاق ہو چکی تھی اور طلاق کے باوجود جب بھی شوہر بلاتا تو چلی جاتی تھی ، خاتون نے کپڑوں کی شناخت کرکے تصدیق کردی کہ یہ اسکی بیٹی کے کپڑے ہیں جو اس نے آخری بار پہن رکھے تھے ۔ فرزانہ کی والدہ نے انکشاف کیا کہ اسکی بیٹی اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی تھی مگر اس نے اسے طلاق دے دی تھی جسکے بعد فرزانہ نے خرچے کا دعویٰ کیا اور عدالت نے اسکے حق میں ڈگری جاری کردی تھی ۔ فرزانہ اکثر خرچہ لینے سابق شوہر کے پاس جاتی ماں اسے منع کرتی کہ اس کا اس طرح سابق شوہر سے ملنا ٹھیک نہیں لیکن وہ ٹال مٹول کرجاتی ۔۔۔ پولیس نے ثبوت اکٹھے کرنے کے بعد خاتون کے سابق شوہر نوید کو گرفتار کیا جو مریدکے میں ایک کارخانے میں کڑھائی کا کام کرتا تھا ،جب اس سے تفتیش کی گئی تو اس نے اصل کہانی بتا دی : نوید کی آمدن کم تھی بیوی کو آئے روز کے جھگڑوں پر طلاق دی مگر اس کا ہر ماہ کا خرچہ گلے پڑ گیا تھا اور وہ اس خرچے سے جان چھڑانا چاہتا تھا ، فرزانہ اس سے واقعی بہت پیار کرتی تھی اور یہ جب بلاتا وہ فورا اسکے پاس جاتی ، مبینہ طور پر طلاق کے بعد بھی اسے نوید کے ساتھ تعلقات پر کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔اسی اعتماد میں اس نے فرزانہ کو بلایا اور اسے ساتھ لے کر نالہ ڈیک کالا شاہ کاکو کے ویرانے میں لے گیا جہاں اسکے دوست اور شاگرد رئیس اور رضا بھی آگئے تینوں نے ملکر اسے ق۔ت۔ل کیا ۔ نوید نے گلہ دبایا ، رئیس نے اپنے پستو۔ل سے فرزانہ کو سینے پر تین گو۔لیاں ماریں جسکے بعد انہوں نے اونچائی سے لا۔ش کو نیچے نالے میں پھینکا ۔ جہاں فرزانہ کی لا۔ش گری وہاں ان تینوں نے کسی سے گڑھا کھود کر لا۔ش کو چھپا دیا ۔۔۔۔ 12 دن لا۔ش چھپی رہی اور پھر فرزانہ کے پیر کی انگلیاں ظاہر ہونے لگیں تو چرواہے نے دیکھ لیا جس نے پولیس کو اطلاع کی ۔۔۔۔۔ پولیس نے تمام ملزمان کو گرفتار کرکے چالان مکمل کر لیا جسکے بعد ملزمان کو پہلے جسمانی ریمانڈ پر رکھا گیا اور اب ملزمان جیل میں ہیں ۔۔۔ سچے واقعات چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کہ ق۔ت۔ل کبھی چھپتا نہیں ۔۔ لیکن سفاک لوگ پھر بھی جرم کرنے سے باز نہیں آتے اور خود کو چالاک سمجھ کر پوری تسلی کرتے ہیں کہ انکا جرم کبھی ظاہر نہ ہو لیکن ق۔ت۔ل کبھی چھپا نہیں رہ سکتا یہ قدرت کا وعدہ ہے ۔۔۔

0 Comments