پھر ثابت ہو گیا ، ق۔تل چھپ نہیں سکتا ۔۔۔ یہ خالق کائنات کا وعدہ ہے ۔۔۔۔۔چھ سال تک ریت کے ٹیلے میں دفن رہنے والی عظمیٰ کے ساتھ ہوا ظلم بے نقاب ہو گیا ۔۔ بورے والا میں ریت کی کھدائی کے دوران ایک خاتون کا ایک ایسا انسانی ڈھانچہ برآمد ہوا ہے، جس نے چھ سال قبل اغوا کرکے قتل کردیا گیا تھا ۔ یہاں ایک نواحی گاؤں میں کھدائی کا کام جاری تھا کہ اچانک زمین سے ایک انسانی ڈھانچہ نمودار ہوا۔ اس خوفناک منظر کے سامنے آتے ہی علاقے میں سنسنی پھیل گئی اور پولیس کو اطلاع دی گئی۔ موقع پر پہنچ کر پولیس نے جب تفتیش کا آغاز کیا تو ڈھانچے کے قریب سے کچھ چوڑیاں اور گلے سڑے کپڑے بھی برآمد ہوئے، جو اس بات کی واضح علامت تھے کہ مق۔تولہ کوئی خاتون تھی۔مزید تفتیش کے دوران مق۔تولہ کی بوڑھی ماں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر بیٹی کے ان ہی گلے سڑے کپڑوں اور چوڑیوں کی مدد سے اس کی شناخت کر لی۔ ماں نے انکشاف کیا کہ یہ انسانی ڈھانچہ اس کی بیس سالہ بیٹی عظمیٰ کا ہے، جسے آج سے چھ سال قبل اغ۔وا کیا گیا تھا۔والدہ کے مطابق، ظالموں نے عظمیٰ کو اغ۔وا کرنے کے بعد مبینہ طور پر بے رحمی سے ق۔تل کیا اور ثبوت مٹانے کے لیے اس کی لا۔ش کو ریت کے اس ویران ٹیلے میں دفن کر دیا تھا۔واضح رہے کہ عظمیٰ کے اغ۔وا کے وقت پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ تو درج کیا تھا، لیکن بدقسمتی سے قانون نافذ کرنے والے ادارے طویل عرصے تک اسے زندہ یا مردہ برآمد کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے تھے۔ اب چھ سال بعد قدرت کے انصاف نے اس اندھے ق۔ت۔ل کا سراغ زمین کا سینہ چیر کر باہر نکال دیا ہے۔پولیس نے مق۔تولہ کا انسانی ڈھانچہ اپنی تحویل میں لے کر سیمپلز ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے ہیں تاکہ سائنسی بنیادوں پر شناخت کی حتمی تصدیق کی جا سکے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس لرزہ خیز جرم کی ہر زاویے سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور اس گھناؤنے جرم میں ملوث سفاک ملزمان کو جلد ہی قانون کے کٹہرے میں لا کر عبرتناک سزا دلائی جائے گی۔

0 Comments