لالہ نامی خاتون قیدی نے مدیحہ نقوی کو اپنا کارنامہ بتا دیا سن کر رونگٹے کھڑے ہوگئے

 


مدیحہ باجی : جیل آکر میری زندگی خراب نہیں ہوئی سنور گئی ہے ۔۔۔۔ کراچی ویمن پرزن کی لالہ نامی خاتون قیدی نے مدیحہ نقوی کو اپنا کارنامہ بتا دیا ۔۔۔ جان کر آپ کی آنکھیں نم ہو جائیں ۔۔۔۔ 18 سال پہلے کی بات ہے لالہ نامی شادی شدہ جوان سال لڑکی سے ایک غلطی ہو گئی ، وہ اس وقت حاملہ تھی ، مگر پیسوں کے لالچ میں شاید کسی نے استعمال کیا اور اغ۔وا کے کیس میں اسکا نام آگیا ۔۔۔ اسے عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی ، جیل میں اس نے بچے کو جنم دیا ، وہ بچہ اب تقریبا! 18 سال کا ہے ، ۔۔۔ کراچی ویمن جیل کی سپرٹنڈنٹ نے لالہ کو پڑھنے لکھنے کا مشورہ دیا کیونکہ یقینی طور پر اسے طویل عرصہ یہاں رہنا تھا ، لالہ نے اپنے بچے کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ پڑھائی شروع کردی ہائی سکول تک تو وہ پہلے ہی پڑھی ہوئی تھی ، اس نے جیل میں میٹرک کیا اور پھر بوتیک کا کام سیکھ کر اجرت پر کپڑے سینے شروع کردیے ، وہ سارا دن اپنے کام میں اور بچے میں مگن رہتی کچھ سالوں بعد خاتون سپرٹنڈنٹ نے لالہ کے بیٹے کو بچوں کی کفالت کے ایک ادارے میں بھجوا دیا جہاں اسے ایک اچھے سکول میں داخلہ بھی مل گیا ،ماں کپڑے سی کر بیٹے کے تعلیمی اخراجات نکالتی رہی اسکے دیگر اخراجات پورے کرتی رہی ایک وقت ایسا آیا کہ بچہ بھی انٹر کا امتحان دے رہا تھا اور ماں نے بھی انٹر کے پرائیویٹ امتحان میں داخلہ لے لیا ، دونوں اچھے نمبرو ں سے پاس ہوئے ، اب لالہ اور اسکا بیٹا دونوں بی اے کے امتحان کی تیاری کررہے ہیں ۔لالہ قید کے 18 سالہ گزار چکی ہے اور چند برس میں اسکی رہائی کی امید ہے قیدی خاتون لالہ کا بیٹا تو آزاد ہے وہ آرمڈ فورسز میں شمولیت کے لیے کوششوں میں مصروف ہے ہر ہفتے ماں کو ملنے آتا ہے ہر بار ماں کا ہاتھ اور ماتھا چوم کر کہتا ہے ماں پریشان نہیں ہونا جلد تم رہا ہو گی اور مجھے نوکری مل جائے گی پھر ہم دونوں ماں بیٹا ایک نئی اور خوبصورت زندگی ایک ساتھ گزاریں گے ۔۔۔۔ وقت نے تم سے جو کچھ چھینا ہے وہ تمہارا بیٹا تمہیں لوٹائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔آُپ سب بھی دعا کریں اس خاتون نے جو غلطی کی اس کی سزا اسے مل گئی ، مگر اب ایک اچھی زندگی دونوں ماں بیٹے کا حق ہے اللہ انہیں اپنے مقصد میں کامیاب کرے ۔۔۔۔آمین


Post a Comment

0 Comments