"ایشال کی موت کا سچ کیا ہے؟ والدین کے الزامات نے سب کو ہلا کر رکھ دیا" کون سے بڑے نام ملوث نکلے ؟








 جھنگ: ایشال فاطمہ کی میڈیکل رپورٹ : یہ پاکستان ہے یہاں طاقت والے سفید کو کالا ثابت کر سکتے ہیں تو پولیس والوں یا بااثر لوگوں

کے سامنے ایک رپورٹ حاصل کرنا کونسا مشکل ہے ، بچی ہماری مری ہے ظلم اسکے ساتھ ہوا ہے اور ہم نے آنکھوں سے دیکھا ہے ہم اس رپورٹ کو نہیں مانتے ۔۔۔ 16 سالہ ایشال کی والدہ، والد اور ماموں نے ساری کہانی بیان کردی ۔۔۔۔ والد کے بقول ایس ایچ او کا رویہ پہلے دن سے ٹھیک نہیں تھا ایک تو انہوں نے ہماری درخواست کے باوجود بچی کو نہیں ڈھونڈا اور کہا خود کہیں گئی ہو گی آجائے گی ، جب بچی فوت ہو گئی تو ایس ایچ او نے بجائے ہمدردی کا اظہار کرنے اور تسلی دینے کے مجھے کہا کہ بات نہ چھپاؤ اصل کہانی بتاؤ ۔۔۔ ایس ایچ او نے کہا آؤ گاڑی میں بیٹھ کر بتا دو اگر کوئی اندر کی بات ہے تو ۔۔۔۔ جس کی بیٹی ق۔ت۔ل ہوئی پڑی ہو اس باپ کے ساتھ پولیس کا رویہ شرمناک ہے ، ایشال فاطمہ کی والدہ کے بقول میری بیٹی سب سے چھوٹی اور لاڈلی تھی مگر وہ بگڑی ہوئی ہرگز نہیں تھی کیسے یقین دلاؤں کہ وہ نمبر سلپ لینے گئی تھی اسکے بعد وہ نہیں آئی میرے شوہر اور بھائی تھانے گئے تو تھانے والوں نے دیر کردی ، سی سی ڈی والے تو منٹوں میں نمبر سے لوکیشن ٹریس کر لیتے ہیں اگر میری بیٹی مریم نواز کی ریڈ لائن ہوتی تو دوسرے دن اسے ظالموں کے شکنجے سے نکالا جا سکتا تھا اور اسکی جان بچ سکتی تھی مگر میری بیٹی عام لوگوں کی بیٹی تھی کسی بڑے کی بیٹی ہوتی تو میں دیکھتی کہ کیسے 3 دن اسکا سراغ نہ ملتا اور چوتھے دن بچی لاوارثوں کی طرح آخری سانس لیتی مجھے ہسپتال میں پڑی ملی میں ساری رات اسکے پاس بیٹھی رہی اسکے چہرے کو چومتی رہی مگر اس میں ذرا بھی جان نہیں تھی وہ چیخنا چاہتی تھی مگر اس میں ہمت نہیں تھی پوری رات میں صرف ایک بار اس نے پانی مانگا مگر ایک چمچ بھی نہ پی سکی میری بیٹی کو 6 چھٹی کلاس میں شوگر ہو گئی تھی اور وہ باقاعدگی سے انسولین لیتی تھی ، ایک تو ظالموں نے ظلم کیا پھر اسے نشا آور ادویات دے کر درندگی کا نشانہ بنایا ۔ اوپر سے اسے تین دن انسولین نہ لگی تو پھر میری بیٹی اس حال کو پہنچ گئی ، مریم نواز سے اپیل ہے کہ میری بیٹی تو مر گئی اللہ مجھے صبر دے گا دوسروں کی بیٹیاں بچا لو اگر یہ مجرم رہا ہو گئے تو کئی ایشال فاطمہ انکا نشانہ بنیں گی ۔۔۔۔ ایشال فاطمہ کے ماموں نے بتایا کہ بچی ہماری مری ہے ہم نے بچی کے جسم پر ظلم اور تش۔دد کا ایک ایک نشان دیکھا ہے اسے درندوں نے بری طرح نوچا اور پھر اسے تین دن انسولین نہیں ملی ، تو اسکی حالت غیر ہو گئی ، ہم نے اسکے خون میں لت۔ پت کپڑے دیکھے ہیں ، ہمارے گھر کی خواتین نے بچی کا جسم جس حال میں دیکھا ہم بیان نہیں کر سکتے اور پولیس اور بااثر لوگ ایک رپورٹ بنا کر ہمیں اپنی نظروں کے سامنے گرا رہے ہیں ۔۔۔۔ کوئی بات نہیں ہماری بیٹی مر گئی مگر اوروں کی بیٹیاں بچا لو ۔۔ پولیس کے لیے ایک من پسند میڈیکل رپورٹ پیدا کرنا کونسا مسئلہ ہے ۔۔۔۔ اب تک سی سی ڈی نے جو کیس کیے ہیں ان میں کیا میڈیکل رپورٹیں اور ڈی این اے کروائے گئے ہیں ایشال فاطمہ کی موت ہر سی سی ڈی کو نیند کیوں آگئی ۔۔۔ مجھے آف دی ریکارڈ بات چیت میں ایس ایچ او نے کہا : گرفتار ملزموں نے ایشال کو بہت پیار سے رکھا ، ایک نشا ۔والی گو۔لی کے چار حصے کرکے ایشال اور تین لڑکوں نے کھائے ،پھر ان سب نے ڈانس کیا اور ہلہ گلہ کیا ۔ کیا ہماری بچی مجرے کرنے والی تھی جو پولیس کی ہمدردیاں ہماری بچی کے قا۔تلوں کے ساتھ ہو گئی ہیں ، اگر ان لڑکوں نے تین دن ہماری بچی کو اغ۔وا اور اپنے قبضے میں رکھ کر بقول پولیس اور رپورٹ ظلم نہیں کیا زیا۔دتی نہیں کی تو پھر بے شک انہیں رہا کردو اور مسجدوں میں امام مقرر کردو کیونکہ انہوں نے ایشال کی عزت نہیں لوٹی ۔۔۔۔۔ ہماری ایشال چلی گئی ، ہم کمزور ہیں چپ کر جائیں گے مگر اللہ کی ذات تو سب دیکھ رہی ہے اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو ایشال فاطمہ کے خون کا حساب ہم اللہ سے مانگیں گے وہاں تو میڈیکل رپورٹیں نہیں چلتیں ۔۔۔۔۔۔

Post a Comment

0 Comments