اس بہادر ہیرو کو سول ایوارڈ سے نوازہ جاےگا انسانیت کی عظیم مثال سننے والے آبدیدہ

 



“جب میں ڈاکٹر تک پہنچا تو تیزاب کے اثر سے ان کے کپڑے متاثر ہو چکے تھے اور وہ شدید تکلیف میں تھیں۔ انسانی ہمدردی اور ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے میں نے فوری طور پر اپنی قمیض اتار کر انہیں ڈھانپ دیا۔ اسی دوران میں بھی تیزاب کے اثرات سے زخمی ہوگیا۔” یہ جملہ وارڈ بوائے عبدالزاق ترہ کئی کا ہے۔

کوئٹہ کے سول اسپتال میں اُس لمحے خاموشی ٹوٹ گئی جب وارڈ میں ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کی کوشش کی گئی۔

چند سیکنڈز میں صورتحال خوفناک حد تک بگڑ سکتی تھی، مگر اسی ہنگامے میں ایک وارڈ بوائے کی فوری مداخلت نے نہ صرف ایک جان کو بڑے نقصان سے بچایا بلکہ ایک ایسا انسانی لمحہ جنم دیا جس پر آج پورا طبی حلقہ بحث کر رہا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق حملے کے فوراً بعد اسپتال کا ماحول افراتفری کا شکار ہو گیا۔

اسی دوران وارڈ بوائے عبدالرزاق نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے متاثرہ ڈاکٹر کی طرف بڑھ کر اپنی قمیض استعمال کی تاکہ مزید تیزاب کے اثرات کو روکا جا سکے۔ اس کوشش میں وہ خود بھی زخمی ہوئے، تاہم انہوں نے سب سے پہلے مریضہ کی حفاظت کو ترجیح دی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے واقعے کے بعد فوری طور پر ینگ ڈاکٹر سے رابطہ کیا۔ گفتگو کا آغاز تعریف اور تشویش کے امتزاج سے ہوا۔

“آپ نے غیر معمولی جرات دکھائی ہے، یہ صرف فرض نہیں تھا بلکہ انسانیت کی اعلیٰ مثال ہے۔ اگر ضرورت ہوئی تو ہم آپ کو کراچی یا بیرونِ ملک بھی علاج کے لیے بھیجیں گے،” وزیراعلیٰ نے کہا۔

اس پر عبدالرزاق نے سادگی سے جواب دیا: “سر، یہ تو ہمارا فرض تھا۔”

وارڈ بوائے نے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاتون شدید تکلیف اور خوف میں تھیں۔

“وہ مجھ سے لپٹ گئیں، اسی دوران تیزاب کے اثرات میرے جسم پر بھی آئے، لیکن اُس وقت صرف یہی خیال تھا کہ انہیں مزید نقصان سے بچانا ہے۔”

یہ مکالمہ جیسے جیسے سامنے آیا، سوشل میڈیا اور طبی حلقوں میں اس پر مختلف آراء سامنے آنے لگیں۔

طبی برادری کے بعض ینگ ڈاکٹروں نے واقعے کو ایک انسانی سانحہ قرار دیتے ہوئے پوائنٹ اسکورنگ شروع کر دی۔

کچھ مبصرین نے اس تنقید کو “موقع پرستی” اور “پوائنٹ اسکورنگ” قرار دیا۔ ان کے مطابق ایسے واقعات میں فوری ردعمل اور ریسکیو اقدامات کو سراہنے کے بجائے اسے سیاسی یا انتظامی بحث میں الجھانا درست نہیں۔

ایک تجزیہ کار کے مطابق: “یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ ان افراد کو خراجِ تحسین دینے کا ہے جنہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کو بچایا۔”

حکومتی سطح پر بھی واقعے کے بعد فوری ردعمل سامنے آیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نہ صرف سیکیورٹی اداروں کو فوری کارروائی کی ہدایت دی بلکہ زخمی خاتون ڈاکٹر کے علاج کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا حکم دیا۔

اسی سلسلے میں وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی جانب سے بھی فعال کردار سامنے آیا۔

وزیر صحت نے اسپتال انتظامیہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کی اور ہدایت کی کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اور سخت اقدامات کیے جائیں۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ کی ہدایت پر زخمی خاتون ڈاکٹر کو کراچی منتقل کیا گیا، جہاں انہیں خصوصی برن یونٹ میں علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت میں بہتری کے آثار موجود ہیں، تاہم مکمل صحتیابی کے لیے وقت درکار ہوگا۔

ادھر پولیس نے واقعے کے بعد حملہ آور کی تلاش شروع کی، جو بعد میں ایک مبینہ مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کو واضح کیا جا سکے۔

یہ واقعہ جہاں ایک طرف طبی عملے کی بہادری کی علامت بن کر سامنے آیا ہے، وہیں دوسری طرف یہ سوال بھی چھوڑ گیا ہے کہ کیا اسپتالوں میں سیکیورٹی کے نظام موجودہ خطرات کے مطابق ہیں یا نہیں۔

کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق اصل مسئلہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ مجموعی انتظامی ڈھانچے کا ہے جس میں اصلاحات کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ تاہم حکومتی موقف یہ ہے کہ واقعے کے فوراً بعد تمام ادارے متحرک ہوئے اور متاثرہ ڈاکٹر کو بروقت بہترین علاج فراہم کیا گیا، جو ریاستی ردعمل کی ایک مثال ہے۔

اس پورے واقعے کے بیچ ایک نام سب سے زیادہ زیر بحث رہا: وہ عبدالزاق جس نے چند لمحوں میں فیصلہ کر کے ایک انسانی جان کو ممکنہ تباہی سے بچایا۔

مگر ان کے مدِمقابل وہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ہے جس نے ان اقدامات کی تعریف کے بجائے پوائنٹ اسکورنگ کرتے ہوئے خوب ہنگامہ آرائی کی۔

Comme


Post a Comment

0 Comments