میری دس سالہ بیٹی روز اسکول سے آتے ہی سیدھا غسل خانے میں بند ہو جاتی تھی۔
میں سمجھتی رہی شاید صفائی کا شوق ہو گیا ہے
میری بیٹی حنا پہلے بہت باتیں کیا کرتی تھی۔
اسکول سے آتے ہی پورا گھر اُس کی آواز سے بھر جاتا۔
“امّی آج میری drawing کی تعریف ہوئی…”
“امّی آج میں نے assembly میں dua پڑھی…”
“امّی آج عائشہ مجھ سے ناراض ہو گئی…”
مگر پچھلے چند ہفتوں سے وہ بدل گئی تھی۔
اب وہ گھر آتے ہی نہ پانی مانگتی…
نہ کھانا…
نہ بات۔
بس خاموشی سے اپنا بیگ رکھتی
اور سیدھا غسل خانے میں چلی جاتی۔
پہلے میں نے سوچا شاید گرمی کی وجہ سے ایسا کرتی ہو۔
مگر پھر میں نے محسوس کیا…
وہ صرف نہاتی نہیں تھی۔
وہ خود کو جیسے مٹانے کی کوشش کرتی تھی۔
صابن اتنی زور سے رگڑتی کہ اُس کی کلائیاں سرخ ہو جاتیں۔
گردن کے قریب جلد چھل جاتی۔
اور نہانے کے بعد بھی اُس کے چہرے پر سکون نہیں آتا تھا۔
ایک دن میں نے اُس سے پوچھ ہی لیا:
“حنا… تم روز آتے ہی نہانے کیوں چلی جاتی ہو؟”
وہ چند لمحے مجھے دیکھتی رہی۔
پھر فوراً نظریں جھکا لیں۔
“بس امّی… اچھا لگتا ہے صاف رہنا…”
یہ جملہ عجیب تھا۔
بہت عجیب۔
کیونکہ وہ ایسے بول رہی تھی جیسے یہ جواب اُسے کسی نے یاد کروایا ہو۔
اُس رات پہلی بار میرا دل بے وجہ ڈرا تھا۔
پھر چند دن بعد غسل خانے کا پانی رکنے لگا۔
میں نے سوچا نالا بند ہو گیا ہوگا۔
حنا اُس وقت ٹیوشن گئی ہوئی تھی۔
میں نے drain کھولا اور اندر پھنسی گندگی نکالنے لگی۔
اچانک کسی کپڑے جیسی چیز ہاتھ میں آئی۔
میں نے کھینچ کر باہر نکالا۔
بالوں، صابن اور کیچڑ کے درمیان نیلے رنگ کا کپڑا پھنسا ہوا تھا۔
میں نے نلکے کے نیچے دھویا…
اور میرا سانس رک گیا۔
وہ حنا کی اسکول یونیفارم کا ٹکڑا تھا۔
نیلا چیک۔
بالکل اُس کی قمیض جیسا۔
مگر بری طرح پھٹا ہوا۔
اور اُس پر مدھم بھورے دھبے تھے…
ایسے دھبے جو دھل تو گئے ہوں، مگر مکمل مٹے نہ ہوں۔
میرے ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے۔
اچانک پچھلے کئی ہفتوں کی باتیں ایک ساتھ ذہن میں ابھر آئیں۔
حنا کا رات کو ڈر کر اٹھ جانا۔
اسکول جانے سے پہلے پیٹ درد کی شکایت کرنا۔
اکثر خاموش رہنا۔
اور خاص طور پر…
کسی مرد کے قریب آتے ہی اُس کا سمٹ جانا۔
میری سانس رکنے لگی۔
میں نے فوراً اُس کی الماری کھولی۔
اندر تین یونیفارمز تھیں۔
حالانکہ چار ہونی چاہئیں تھیں۔
اسی لمحے دروازہ کھلا۔
حنا واپس آ گئی تھی۔
اُس نے میرے ہاتھ میں وہ کپڑا دیکھا…
اور اُس کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔
قسم سے…
ایک دس سالہ بچی کے چہرے پر اتنا خوف نہیں ہونا چاہیے۔
میں اُس کے قریب گئی۔
“حنا…”
میری آواز کانپ رہی تھی۔
“یہ کیسے پھٹا؟”
وہ خاموش رہی۔
میں اُس کے سامنے بیٹھ گئی۔
“بیٹا… میں ڈانٹوں گی نہیں۔
بس سچ بتاؤ…”
اُس کے ہونٹ کانپنے لگے۔
پھر اچانک وہ ٹوٹ گئی۔
ایسے نہیں جیسے بچے ضد میں روتے ہیں…
بلکہ ایسے جیسے کوئی بہت عرصے سے خود کو سنبھالے ہوئے ہو۔
وہ میرے گلے لگ گئی اور ہچکیوں میں بولی:
“امّی… میں گندی ہوگئ ہوں نا…؟”
اُس ایک جملے نے میری روح چیر دی تھی۔
میں نے فوراً اُس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا۔
“یہ کس نے کہا تم سے؟!”
وہ کانپ رہی تھی۔
پھر بہت مشکل سے اُس نے ایک نام لیا۔
اسکول وین کے ڈرائیور کا۔
میرے کانوں میں شور گونجنے لگا۔
پتا چلا…
کئی ہفتوں سے وہ آدمی بچوں کے اتر جانے کے بعد حنا کو آخری stop تک روکے رکھتا تھا۔
اُسے ڈراتا۔
خاموش رہنے کا کہتا۔
اور بار بار یہی کہتا:
“اگر کسی کو بتایا تو سب کہیں گے تم گندی ہوچکی ہو…”
اس لیے حنا روز گھر آ کر خود کو دھوتی تھی۔
وہ اپنے جسم سے نہیں…
اپنے اوپر چپکا ہوا خوف، نفرت اور شرمندگی اتارنے کی کوشش کرتی تھی۔
اُس رات میں نے اپنی بیٹی کو سینے سے لگا کر صرف ایک بات کہی:
“سن لو حنا…
گندا وہ انسان ہے جس نے تمہیں ڈرایا۔
تم نہیں۔
تم بالکل پاک ہو… بالکل معصوم…”
اگلی صبح میں پولیس اسٹیشن گئی۔
اسکول گئی۔
اور اُس درندے کو گرفتار کروایا۔
مگر سچ یہ ہے…
بعض زخم عدالتوں سے نہیں بھرتے۔
اُنہیں بھرنے کیلئے برسوں محبت، تحفظ اور یہ یقین دینا پڑتا ہے کہ:
“تمہارے ساتھ ظلم ہوا تھا…
تم خود ظلم نہیں تھیں…” 🌙

0 Comments