یہ ہوئی ناں بات : کروڑوں روپے خرچ کرکے بھی عثمان مرزا کی جان نہ چھوٹی ۔۔۔ پولیس اور عدالتوں نے راولپنڈی کے ڈان کو ایسا شکنجہ لگایا کہ جان چھڑانا ناممکن ہو گیا ۔۔۔۔ آپ کو 2021 کا واقعہ تو یاد ہو گا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک نوجوان جوڑے کو ہراساں کرنے، ان پر تش۔دد کرنے اور ان کی نازیبا ویڈیوز بنانے کا انکشاف ہوا۔ ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم عثمان مرزا اور اس کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا۔ پھر عدالت نے عثمان مرزا کو 25 سال قید کی سزا سنا دی ، اسکے بعد پچھلے پانچ سال میں بہت کچھ ہوا ، چور راستوں کے ذریعے عثمان مرزا نے مہنگے ترین وکیل کرکے رہا ہونے کی کوشش کی ، مدعی پارٹی کو 2 کروڑ روپے دے کر ان سے صلح بھی کر لی ، اسکا خیال تھا کہ وہ اب آزاد ہو جائیگا مگر عثمان مرزا کی خواہش پوری نہ ہو سکی اس مشہور کیس کی سماعتوں کے دوران ملزم کے اثر و رسوخ اور مالی طاقت کی خبریں سامنے آئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ متاثرہ جوڑے کو تقریباً دو کروڑ روپے دے کر عدالت میں بیانات تبدیل کروائے گئے جس کے نتیجے میں چند ماہ بعد ملزمان کو کیس سے بریت مل گئی۔تاہم پولیس نے مقدمے کا تعاقب ترک نہیں کیا اور عدالت سے مزید وقت لے کر کیس کو دوبارہ ٹرائل میں لے آئی۔ اس دوران تفتیشی ٹیم نے وائرل ویڈیو کی جدید فرانزک تحقیقات کروائیں، جن میں ملزمان کی آوازوں اور چہروں کا موازنہ کیا گیا۔ فرانزک رپورٹ میں ویڈیوز میں موجود افراد کی شناخت اور آوازیں ملزمان سے مطابقت رکھتی پائی گئیں۔ان مضبوط شواہد کی بنیاد پر پولیس نے عثمان مرزا اور اس کے ساتھیوں کو دوبارہ گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا۔ مکمل ثبوتوں اور فرانزک رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے مرکزی ملزم عثمان مرزا اور اس کے ساتھیوں کو مجموعی طور پر 25 سال قید کی سزا سنا دی۔، ثابت ہو گیا کہ پولیس دیانتداری اور مستقل مزاجی کے ساتھ کسی مقدمے کا پیچھا کرے تو انصاف ممکن ہو جاتا ہے۔
0 Comments