روینہ ٹنڈن کے ماموں سامبھا کراچی سے آئے بھارت شعلے میں 3 لائن کے ڈائیلاگ سے بنے اسٹار ابوالہول ہوشیار پوری ———————- کراچی سے بھارت آنے والے ایک اداکار نے محض تین لائنوں کے ڈائیلاگ سے ایسی پہچان بنائی کہ وہ ہمیشہ کے لیے یادگار ہو گئے۔ 70 اور 80 کی دہائی میں جب سنیما پر ولن کا راج تھا اور امریش پوری، امجد خان، پریم چوپڑا، ڈینی ڈینزونگپا، رنجیت اور جیون جیسے اداکار اپنے منفرد انداز سے چھائے ہوئے تھے، اسی دوران ایک اور فنکار نے بھی اپنی جگہ بنائی۔ یہ اداکار زیادہ تر چھوٹے کرداروں میں نظر آئے، مگر ہر بار اپنی اداکاری سے گہرا اثر چھوڑ گئے۔ یہ میک موہن تھے، جن کا اصل نام موہن مکیجانی تھا۔ وہ 24 اپریل 1938 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کا خواب تھا کہ وہ کرکٹر بنیں، اور اسی مقصد کے لیے ممبئی آئے تھے، مگر قسمت نے انہیں فلمی دنیا کی طرف موڑ دیا۔ ابتدا میں انہوں نے تھیٹر سے وابستگی اختیار کی، جہاں ان کی دلچسپی اداکاری میں بڑھتی گئی۔ بعد ازاں انہوں نے ممبئی میں باقاعدہ اداکاری سیکھی اور فلموں میں آنے سے پہلے معروف ہدایتکار چیتن آنند کے اسسٹنٹ کے طور پر بھی کام کیا۔ انہیں 1964 میں فلم “حقیقت” میں پہلا موقع ملا۔ اگرچہ انہوں نے 200 سے زائد فلموں میں کام کیا، لیکن اصل شہرت انہیں فلم “شعلے” سے ملی۔ اس فلم میں ان کا کردار کا“سامبھا” تھا، جو مختصر ہونے کے باوجود بے حد مقبول ہوا۔ گبر سنگھ کا مشہور سوال، “ارے او سامبھا، کتنا انعام رکھا ہے سرکار ہم پر؟” اور اس کے جواب میں سامبھا کا کہنا “پورے پچاس ہزار”، آج بھی فلمی تاریخ کے یادگار لمحوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسی ایک ڈائیلاگ نے انہیں لازوال بنا دیا۔ یادرہےمیک موہن اداکارہ روینہ ٹنڈن کے ماموں تھے۔ روینہ نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ اپنے ماموں کے بہت قریب تھیں اور وہ اکثر ان کے لیے تحفے لایا کرتے تھے- 10مئیُ210کو وہ اس دنیا سے چلے گئے-
.png)
0 Comments