🟥 بریکنگ نیوز | کراچی
کراچی کے مصروف ترین علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازا میں لگنے والی خوفناک آگ نے شہر کی فضا کو سوگوار کر دیا ہے۔ آتشزدگی کے نتیجے میں فائر فائٹر فرحان شوکت سمیت 6 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ متعدد افراد بے ہوش حالت میں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیے گئے ہیں۔
واقعے کو 20 گھنٹے سے زائد گزر جانے کے باوجود تاحال آگ پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ ریسکیو حکام کے مطابق آگ گزشتہ رات گل پلازا کے میزانائن فلور پر ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ کے باعث بھڑکی، جو تیزی سے گراؤنڈ اور فرسٹ فلور تک پھیل گئی۔
دھوئیں کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ کئی افراد کی حالت غیر ہو گئی، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ تیسرے درجے کی ہے، جس پر قابو پانے کے لیے شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کیے گئے۔
ریسکیو آپریشن میں:
-
20 فائر ٹینڈرز
-
4 اسنارکلز
-
1 واٹر باؤزر
کے ذریعے امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ گل پلازا میں تقریباً 2000 دکانیں موجود ہیں۔ ہر دکان کے آگے، پیچھے اور اطراف میں آگ پھیل چکی ہے۔ اگرچہ بعض حصوں میں شعلے نظر نہیں آ رہے، تاہم عمارت کے وسطی حصے میں آگ بدستور موجود ہے۔ شدید گرمی اور عمارت میں پڑنے والی گہری دراڑوں کے باعث ریسکیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
آگ کے باعث عمارت کے دو حصے منہدم ہو چکے ہیں جبکہ ریسکیو آپریشن کے دوران سیڑھیاں ٹوٹنے سے فائر بریگیڈ کے دو اہلکار زخمی بھی ہو گئے۔
متاثرہ پلازا کے اطراف اہلِ خانہ اپنے پیاروں کی تلاش میں شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ ان کے عزیز ابھی تک عمارت کے اندر پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔
ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ان کی ساس، کزن بہنیں اور دیگر رشتہ دار پلازا میں موجود تھے، جن سے آخری بار رات 10 بجے رابطہ ہوا، اس کے بعد فون بند ہو گئے۔ ایک اور متاثرہ شخص نے بتایا کہ ان کی 21 سالہ بیٹی اور دو بہنیں خریداری کے لیے گئی تھیں، جن سے اب تک کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے متاثرہ عمارت کا دورہ کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر متعلقہ افراد عمارت سے دور رہیں تاکہ ریسکیو اہلکار بغیر رکاوٹ امدادی کارروائیاں جاری رکھ سکیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق گل پلازا انتہائی پرانی عمارت ہے اور آگ کے باعث 22 ستون کمزور ہو چکے ہیں، جس سے عمارت کے مزید گرنے کا خدشہ موجود ہے۔
.jpg)

0 Comments