نامور اور سینئر نیوز براڈکاسٹر عشرت فاطمہ نے 45 برس تک ریڈیو پاکستان سے وابستگی کے بعد ادارے کو الوداع کہہ دیا۔
اپنے جذباتی پیغام میں عشرت فاطمہ نے اللہ تعالیٰ اور اپنے والدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ریڈیو پاکستان سے رخصت ہونا ان کے لیے ایک انتہائی مشکل اور ذاتی فیصلہ تھا۔ انہوں نے اپنی علیحدگی کی کوئی تفصیلات بیان نہیں کیں، تاہم سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری بیان میں مداحوں سے کہا کہ وہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو فالو کریں تاکہ ان کے آئندہ لائحۂ عمل سے باخبر رہ سکیں۔
الوداعی پیغام میں عشرت فاطمہ نے کہا:
“ریڈیو پاکستان اور اپنے سامعین کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیے بغیر رخصت نہیں ہو سکتی۔ آپ سب کی محبت اور اعتماد ہی میرا اصل سرمایہ ہے۔”
عشرت فاطمہ کی ریڈیو پاکستان سے رخصتی پر صحافت اور نشریات سے وابستہ معروف شخصیات نے سوشل میڈیا پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ سینئر صحافی اسماء شیرازی نے ایکس پر لکھا:
“آپ ہمیشہ ہماری یادوں میں زندہ رہیں گی، آپ ایک آئیکون، تحریک اور رول ماڈل ہیں۔”
ایک اور صارف نے لکھا:
“عشرت فاطمہ ایک سچی لیجنڈ ہیں۔ وہ اپنے کام سے اس قدر مخلص تھیں کہ پاکستان میں نیوز براڈکاسٹنگ کا چہرہ بن گئیں۔ میں نے انہیں پی ٹی وی پر دیکھتے ہوئے ہوش سنبھالا اور آج بھی ان کا منفرد اور باوقار انداز دل کو مسحور کر دیتا ہے۔”
سوشل میڈیا پر آنے والے ان تاثرات سے واضح ہوتا ہے کہ عشرت فاطمہ نے پاکستانی نشریاتی صحافت، اردو زبان اور پیشہ ورانہ اقدار پر گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑے ہیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گے۔


0 Comments