بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ تحریر صرف معلومات اور آگاہی کے مقصد سے پیش کی جا رہی ہے۔ خاص طور پر اُن پاکستانیوں کے لیے جو برطانیہ کی سرزمین پر مقیم ہیں، چاہے وہ کسی بھی اسٹیٹس پر ہوں، اسپاؤس ویزا ہو، آئی ایل آر ہو یا شہریت حاصل کر چکے ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں دو ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں خواتین کو باقاعدہ طور پر سزا سنائی جا چکی ہے اور ایک لاکھ پاؤنڈ سے زائد جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
آپ مانیں یا نہ مانیں، برطانیہ میں رہنے والے پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد حکومتی مراعات حاصل کر رہی ہے۔ کچھ لوگ جائز طور پر اہل ہوتے ہوئے یہ سہولتیں لیتے ہیں، لیکن افسوس کہ بہت سے افراد ناہل ہونے کے باوجود غلط بیانی اور جھوٹ کے ذریعے فائدے حاصل کرتے ہیں۔ وہ کماتے بھی ہیں، اچھی آمدن بھی رکھتے ہیں، مگر اس کے باوجود حکومت کو ظاہر کرتے ہیں کہ ان کی آمدن نہایت کم ہے۔ بعض لوگ کیش میں کام کرتے ہیں اور پھر بھی حکومتی مراعات لیتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں ایسے افراد کے خلاف باقاعدہ کارروائی کی جا رہی ہے اور حال ہی میں دو کیسز منظرِ عام پر آئے ہیں۔ میں وہ دونوں واقعات آپ کے سامنے رکھتا ہوں، فیصلہ آپ خود کیجیے گا۔
پہلا واقعہ نیو کیسل سے تعلق رکھنے والی 42 سالہ خاتون کا ہے، جو سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ برطانیہ کے بڑے میڈیا اداروں میں بھی زیرِ بحث ہے۔ میڈیا یہ مثال دے رہا ہے کہ کس طرح کچھ لوگ ٹیکس دہندگان کے پیسے سے بددیانتی کرتے ہیں۔ اس خاتون کے چھ بچے ہیں، جن میں سے چار اٹھارہ سال سے کم عمر اور اس پر منحصر ہیں، جبکہ دو بچے بالغ ہیں۔
یہ خاتون سن 2016 سے 2024 تک تقریباً آٹھ سے دس سال کے عرصے میں حکومتی مراعات حاصل کرتی رہیں۔ ان مراعات میں مفت رہائش، کم آمدن الاؤنس، خوراک اور دیگر سہولتیں شامل تھیں۔ کسی مرحلے پر ان کے خلاف شکایت درج ہوئی یا پھر محکمۂ ورکس اینڈ پینشنز نے تحقیقات شروع کیں۔
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ خاتون خود کو سنگل مدر ظاہر کر رہی تھیں، جبکہ حقیقت میں وہ اپنے پارٹنر کے ساتھ رہ رہی تھیں۔ اگرچہ یہ بات بظاہر معمولی لگتی ہے، مگر حکومت کے نزدیک یہ سنگین غلط بیانی ہے۔ نتیجتاً یہ ثابت ہوا کہ انہوں نے اس بنیاد پر تقریباً ایک لاکھ پاؤنڈ اضافی مراعات حاصل کیں۔ عدالت نے انہیں تین سال قید اور ایک لاکھ پاؤنڈ کی ادائیگی کی سزا سنائی۔
دوسرا واقعہ ایک پاکستانی خاتون سے متعلق ہے اور اس کا تعلق ہماری کمیونٹی میں رائج ایک عام روایت یعنی بی سی (کمیٹی) سے ہے۔ پاکستان میں یہ ایک عام بچت کا طریقہ ہے جس میں لوگ ہر ماہ ایک مخصوص رقم جمع کراتے ہیں اور باری آنے پر وہ رقم واپس مل جاتی ہے۔ یہ نہ نفع ہوتا ہے نہ نقصان، صرف بچت کا ایک طریقہ ہے۔
یہ خاتون بھی حکومتی مراعات حاصل کر رہی تھیں، مگر انہوں نے اپنی درخواست میں یہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ کمیٹی ڈالتی ہیں۔ جب ان کی کمیٹی کھلی تو ایک بڑی رقم اچانک ان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی۔ اس پر ان سے پوچھ گچھ ہوئی کہ یہ رقم کہاں سے آئی۔ انہوں نے وضاحت دی کہ یہ ان کے اپنے پیسے تھے جو کمیٹی کی صورت میں جمع ہو رہے تھے۔
حکام کا مؤقف یہ تھا کہ مراعات کے لیے درخواست دیتے وقت اس مالی سرگرمی کو ظاہر نہیں کیا گیا تھا، جو کہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ نتیجتاً ان کے مراعات بند کر دی گئیں، اکاؤنٹس منجمد ہو گئے اور آئندہ دنوں میں انہیں مزید قانونی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یہاں ایک بات نہایت توجہ طلب ہے۔ اگر آپ برطانیہ میں حکومتی مراعات پر ہیں تو انتہائی احتیاط سے کام لیں۔ بیرونِ ملک آنے کا مقصد بہتر زندگی، بہتر آمدن یا حالات سے نجات ہوتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو حکومتی مراعات سے بچنے کی کوشش کریں۔
اب صورتِ حال یہ ہے کہ اگر کسی نے ایک سال یا اس سے زائد عرصے تک حکومتی مراعات حاصل کی ہوں تو آئی ایل آر اور شہریت کے معاملات میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ آپ نے معاشرے میں کیا مثبت کردار ادا کیا، ٹیکس دیا یا نہیں، اور مجموعی طور پر ملک کے لیے آپ کا کردار کیا رہا۔
میری نظر میں یہ دونوں واقعات ایک واضح وارننگ ہیں۔ پاکستانی کمیونٹی میں جھوٹ بول کر یا حقائق چھپا کر مراعات لینے کا رجحان عام ہے، مگر اب یہ روش سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
خدارا احتیاط کیجیے، قوانین کا احترام کیجیے اور اپنے مستقبل کو خطرے میں نہ ڈالیں۔ باقی، اچھا بُرا آپ خود بہتر سمجھتے ہیں۔
اللہ حافظ،
ان شاء اللہ پھر ملاقات ہوگی۔


0 Comments