اپنی جان قربان کر کے 2000 زندگیاں بچائیں

 



اعتزاز حسن — جرات، قربانی اور انسانیت کی روشن علامت

اعتزاز حسن، محض 15 سالہ پاکستانی طالب علم، آج بھی خالص جرات اور بے لوث قربانی کی ایک لازوال مثال کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔
6 جنوری 2014 کو خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں ایک ایسا لمحہ آیا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔

جب اعتزاز نے ایک مشکوک شخص کو اسکول کی جانب بڑھتے دیکھا، جہاں تقریباً دو ہزار معصوم طلبہ موجود تھے، تو انہوں نے ایک پل کے لیے بھی اپنی جان کی فکر نہ کی۔ انہوں نے اپنے دوستوں، ہم جماعتوں اور ان کے خاندانوں کی حفاظت کو اپنی زندگی پر ترجیح دی۔

عمر سے کہیں بڑھ کر حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعتزاز نے خودکش بمبار کو اسکول میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس بے مثال جرات کے نتیجے میں انہوں نے اپنی جان قربان کر دی، مگر سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں زندگیاں محفوظ بنا دیں۔

اعتزاز حسن کا دل اس حوصلے اور طاقت سے بھرا ہوا تھا جس تک بہت سے لوگ پوری زندگی میں بھی نہیں پہنچ پاتے۔ ان کی قربانی صرف ایک المناک واقعہ نہیں، بلکہ امید، بہادری اور دوسروں کے لیے بے خوف محبت کی ایک دائمی علامت ہے۔


اعلانِ دستبرداری:
یہ مواد صرف آگاہی، تعلیمی، عوامی معلومات اور صحافتی مقاصد کے لیے فراہم کیا جا رہا ہے۔


Post a Comment

0 Comments