لاہور میں پیش انے والے اس واقعہ نے سب کو حیران کردیا کوئی اس حد تک بھی گر سکتا ہے

 


مجھے معافی ملنی چاہیے کیونکہ جو ہوا غصے میں ہوا میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔۔۔ اگست 2022 میں اپنی ساس کو ق۔ت۔ل کرنے والی لاہور کی خاتون کی سچی کہانی ۔۔۔۔۔ اس خاتون کی شادی کو 12 سال ہو چکے ہیں انکے پانچ بچے ہیں شوہر سرکاری ملازم ، گھر میں اس خاتون کے ساتھ سسرالی رشتہ داروں میں سے صرف ساس رہتی تھی ، خاتون کے بقول شادی کے بعد پہلے سال کے اندر ہی ساس سے لڑائی جھگڑے شروع ہو گئے تھے ، ساس بات بات پر پابندیاں لگاتیں ۔ تقریبا روزانہ نوک جھوک چلتی رہتی ، شوہر دونوں کو سمجھاتے مگر جھگڑے شوہر یا بیٹے کی غیر موجودگی میں ہوتے ۔ وقوعہ کے روز ساس بہو کا جھگڑا شدت اختیار کر گیا ، بات گریبان پکڑنے اور بال کھینچنے تک آگئی اس وقت ساس نے بہو کو ماں باپ کی گا۔لی دی تو بہو نے ایک ڈنڈا پکڑ کر ساس کو مارا ، جواب میں ساس نے بھی کوئی چیز بہو کے سر میں ماری اسکے بعد بہو یعنی یہ خاتون غصے میں پاگل ہو گئی اس نے ڈنڈے کے چار وار مزید اپنی ساس کے سر پر کیے اور قصہ ختم ہو گیا ، جب ساس مر گئی تو اس خاتون کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اس نے اپنے بچوں کو چپ رہنے کو کہا خود پولیس کو فون کیا اور موقع واردات کو ڈ۔کیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی ، پولیس نے شک کی بناء پر خاتون سے پوچھ گچھ کی ۔ خاتون بہت پکی تھی اس نے کئی گھنٹے تک انکار کیا لیکن آخر کار اپنا جرم قبول کر بیٹھی ۔۔۔ پولیس حراست میں خاتون کے موقف تھا کہ ساس نے میری زندگی اجیرن کررکھی تھی ۔ میں نے جو کیا غصے میں کیا اس لیے مجھے معافی ملنی چاہیے کیونکہ میرے ساتھ جو کچھ تھانے میں ہو رہا ہے جیل کی زندگی تو اس سے بھی بدتر ہوگی ، میرا شوہر بچوں کی خاطر مجھے معاف کردے ۔۔۔ ابتدائی طور پر شوہر نے اپنی ماں کا خون معاف کرنے سے انکار کردیا تھا اور خاتون کو جیل بھجوا دیا گیا تھا ۔۔۔


Post a Comment

0 Comments