رشتے سے انکار پر مارپیٹ سہنے اور جوتیاں تک چاٹنے والی خدیجہ کا عدالتی فیصلے کے بعد پہلا انٹرویو ۔۔۔۔ میں ایک سی ایس پی آفیسر کی بیٹی تھی مگر دولت اور طاقت کے نشا میں چور شیخ انعام اور اسکی فیملی نے مجھے خریدنا چاہا ، میرے انکار پر مجھے محبوس رکھا گیا مارا گیا جوتیاں چومنے پر مجبور کیا گیا حتیٰ کہ زبان نکال کر جوتیوں کو چاٹنے کا کہا گیا جو کہ میں نے کیا ورنہ یہ لوگ مجھے مار دیتے ۔۔۔۔ہم خود ایک بہت بڑی نہ سہی لیکن درمیانے درجے کی زمیندار فیملی ہیں ، میرے کئی خواب تھے جو اس کیس کی بھینٹ چڑھ گئے میں اندر سے بکھر گئی ، شکر ہے خود ان لوگوں نے میری ویڈیوز وائرل کیں ورنہ دنیا کو اس ظلم کا پتہ ہی نہ چلتا ، گرفتاری کے بعد شیخ دانش نے صلح کے لیے ہر حربہ استعمال کیا مجھے کروڑوں کی پیشکش کی گئی ، مگر میں لڑکی اور عورت کو ہمت حوصلے اور بہادری کی علامت بنانا چاہتی تھی جو کہ میں نے بنا دیا ، قانون نافذ کرنے والے اداروں ایف آئی اے اور عدالتوں کی مشکور ہوں جنہوں نے میرٹ پر فیصلہ کیا اور ظالموں کو نشان عبرت بنا دیا ۔۔۔۔ خدیجہ غفور کی باتیں

0 Comments