منتہا کیس میں نئی آواز، ارسلان کی والدہ نے کیا کہہ دیا؟

 


میرا بیٹا گناہ گار تھا تو مجھے ثبوت دو میں چپ کر جاؤں گی ورنہ میں چیختی رہونگی ۔۔۔ منتہا کیس کے مرکزی کردار ارسلان کی ماں کی دہائیاں ۔۔۔ میں بھی ماں ہوں مجھے بچی کی موت کا غم بھی ہے اور میں اسکی ماں کا درد محسوس کر سکتی ہوں مگر 25 سال میں میرے بیٹے کی کبھی ایک بھی شکایت نہ آئی اسے ایک سازش کے تحت پیسے لیکر مجرم بنایا گیا ہے مجھے حکومت، پولیس والے اور پوری قوم ایک سوال کا جواب دے کہ کیا دکان کا مالک اسکا بیٹا اور دوسرے ملازم اندھے تھے کہ دکان کے اندر ایک بچی آئی اور میرا بیٹا اسے اٹھا کر اوپر لے گیا کسی کو پتہ نہ چلا ۔کسی ایک نے تو دیکھا ہو گا اس نے مالک کو کیوں نہ بتایا ، دکان سے کوئی ایک ٹافی اٹھا لے تو انہیں پتہ چل جاتا ہے لیکن ایک بچی کو کوئی اٹھا کر دکان کے اندر بنی سیڑھیوں سے اوپر لے گیا ، جو بھی مجرم ہے وہ کافی دیر اوپر رہا ہو گا ۔کیا کسی نے ایک نوکر کی غیر موجودگی کو نوٹ نہیں کیا جبکہ مالک سے اجازت لیے بغیر کوئی نوکر چھوٹا پیشاب کرنے بھی نہیں جا سکتا یہ ملی بھگت ہے یہ سازش ہے میرا بیٹا غریب تھا کمزور تھا اس لیے سارا الزام اس پر ڈال دیا گیا اور اصل مجرموں کو بچا لیا گیا میں وہ بدقسمت ماں ہوں جسکے گھر میں اسکے جوان بیٹے کی میت بھی نہیں آنے دی گئی ہم نے قبرستان آکر چند سیکنڈوں کے لیے بیٹے کا چہرہ دیکھا جبکہ ہمیں اسکو چھونے اور منہ چومنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی ، انصاف والو: اگر تمہارے پاس انصاف ہے تو اس دکھی ماں کو بھی انصاف دو مجھے ثبوت دو کہ میرا بیٹا گناہ گار تھا اس لیے مارا گیا اور باقی سب بے گناہ ہیں اس لیے بچے ہوئے ہیں ۔ مجھے پتہ چل جائے کہ وہ گناہ گار تھا تو میں اسکے لیے دعا نہ کروں اور وہ بے قصور مارا گیا ہے تو مجھے تسلی ہونی چاہیے تاکہ میں بیٹے کی مغفرت کی دعا تو صدق دل اور یقین سے کرسکوں ۔۔۔۔


Post a Comment

0 Comments