اس حوالے سے ملزم ارسلان کی والدہ نے دکان کے مالکان اور پولیس کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے بچے کو کریانہ دکان کے مالکان نے خود پھنسایا، اس واقعے میں دکان کا مالک اور اس کا بیٹا خود ملوث ہیں، جب دکان کے مالکان خود کاؤنٹر پر بیٹھے ہوئے تھے، تو ان کی موجودگی میں ارسلان معصوم بچی کو لے کر دکان کے اوپر کیسے جا سکتا ہے؟۔
ملزم کی والدہ کا کہنا ہے کہ پولیس اور کریانہ شاپ کے مالک نے آپس میں مل کر ان کے بیٹے پر جھوٹا الزام لگایا اور اسے ماورائے عدالت قتل کروا دیا، ہمارا بیٹا بالکل بے قصور تھا، اپنے بیٹے کو انصاف دلوانے کے لیے آخری حد تک جائیں گے، جیسے ہی اس کیس کی ڈی این اے رپورٹ سامنے آئے گی، تو عدالت کے ذریعے اپنے بیٹے کی لاش کی قبر کشائی کروائیں گے تاکہ سچ سب کے سامنے آ سکے کیوں کہ میرا بیٹا مجرم نہیں ہو سکتا۔
0 Comments