معصوم ممتہا کے ملزم کی والدہ کے بیان نے ہر طرف کھلبلی مچا دی

 



صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں 8 سالہ معصوم بچی منتہا زہرہ کے قتل اور زیادتی کے کیس میں ملزم کی والدہ نے پولیس اور دکان کے مالکان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو بے گناہ قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق 8 سالہ بچی کے قتل میں ملوث ملزم ارسلان سی سی ڈی کے ساتھ ہونے والے ایک مبینہ مقابلے میں مارا گیا تھا، ملزم کی ہلاکت کے بعد پولیس نے ورثاء کی موجودگی میں ملزم کی تدفین تو کردی، لیکن لواحقین نے مقامی قبرستان میں تدفین کی اجازت نہ دینے کا الزام عائد کردیا، ملزم کے اہلخانہ نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے انہیں مرنے والے بیٹے کا چہرہ تک نہیں دکھایا اور نہ ہی میت کو آخری بار گھر لے کر جانے کی اجازت دی گئی۔

اس حوالے سے ملزم ارسلان کی والدہ نے دکان کے مالکان اور پولیس کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے بچے کو کریانہ دکان کے مالکان نے خود پھنسایا، اس واقعے میں دکان کا مالک اور اس کا بیٹا خود ملوث ہیں، جب دکان کے مالکان خود کاؤنٹر پر بیٹھے ہوئے تھے، تو ان کی موجودگی میں ارسلان معصوم بچی کو لے کر دکان کے اوپر کیسے جا سکتا ہے؟۔

ملزم کی والدہ کا کہنا ہے کہ پولیس اور کریانہ شاپ کے مالک نے آپس میں مل کر ان کے بیٹے پر جھوٹا الزام لگایا اور اسے ماورائے عدالت قتل کروا دیا، ہمارا بیٹا بالکل بے قصور تھا، اپنے بیٹے کو انصاف دلوانے کے لیے آخری حد تک جائیں گے، جیسے ہی اس کیس کی ڈی این اے رپورٹ سامنے آئے گی، تو عدالت کے ذریعے اپنے بیٹے کی لاش کی قبر کشائی کروائیں گے تاکہ سچ سب کے سامنے آ سکے کیوں کہ میرا بیٹا مجرم نہیں ہو سکتا۔

Post a Comment

0 Comments