منتہا کے قا۔تل ارسلان کی حیران کن حقیقت سامنے آئی ہے جس نے کئی سوال کھڑے کردیے

 


اذانیں دینے سے بھلا کون فرشتہ بنتا ہے ؟ سرگودہا سمیت پورے ملک کو رلانے والے منتہا کے قا۔تل ارسلان کے گھر کا منظر :نہ کوئی تعزیت کرنے والا ، نہ کوئی رونے والا ، ڈیڈ باڈی کا محلے میں داخلہ ممنوع ، گھر کی چند خواتین کا تنبو کے نیچے بیٹھ کر ماتم ۔۔۔ یہ حیران کن حقیقت سامنے آئی ہے کہ سرگودہا کے اس نواحی علاقے میں ارسلان کا خاندان پانچ سال قبل آکر کرائے کے گھر میں رہنے لگا ، پہلے ارسلان مقامی مسجد میں اذانیں دیتا رہا اور بچوں کو بھی پڑھاتا رہا ، مگر پھر مالی تنگی کی وجہ سے شہر جاکر 8 بلاک کے حنیف کریانہ سٹور پر ملازم ہو گیا جہاں وہ تین سال سے کام کررہا تھا ۔ اہل گاؤں کے مطابق یہاں گاؤں میں اسکے خلاف ایسی کوئی شکایت سامنے نہ آئی ، کیا پتہ یہاں بھی شیطانی کھیل کھیلتا رہا ہو مگر کسی کو پتہ نہ چل سکا ۔ صبح دکان پر جاتا اور رات کو گھر واپس آجاتا ۔۔۔۔ اہل گاؤں نے سختی سے ارسلان کے لواحقین کو منع کردیا کہ نہ تو اسے محلے میں لایا جائے اور نہ ہی مقامی قبرستان میں اسکی تدفین کی جائے ۔۔۔۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پولیس حکام کی ہدایت پر سرگودہا کے ایک نواحی چک میں انسان نما درند کی تدفین کردی گئی ہے ۔۔۔


Post a Comment

0 Comments