چکوال میں معصوم ہانیہ کیوں جان سے گئی؟ والد کے بیان نے واقعے کو نیا رخ دے دیا۔۔۔






 سانحہ چکوال : سی سی ڈی اہلکار کی گو۔لیوں کا نشانہ بننے والی ہانیہ احمد کے زخمی والد عدیل کا بیان سامنے آگیا ۔۔۔۔اس واقعہ کا

مقدمہ چکوال سٹی تھانے میں جان بحق ہونے والی بچی کے والد عدیل احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے ایف آئی آر کے متن کے مطابق مدعی نےبتایا کہ وہ چکوال کے علاقے ڈھڈیال کے رہائشی ہیں اور گذشتہ کافی عرصے سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔ 10 جون کی رات کو وہ اپنے سسرال میں دعوت پر آئے تھے۔ رات 11 بجکر 40 منٹ پر سی سی ڈی کے دفتر کے سامنے پہنچے اور گاڑی اپنے عزیز کے گھر کے باہر روکی تو اُسی دوران وہاں دو افراد پہنچے جن کے پاس پستو۔ل تھی اور جنھوں نے اُن کو اہلیہ کے زیوارت سمیت تمام قیمتی چیزیں حوالے کرنے کو کہا ۔ ’اِسی دوران ایک فا۔ئیر ہوا اور جو افراد ہم سے زیورات وغیرہ چھین رہے تھے اُنھوں نے (ہماری) گاڑی کی اوٹ لے کر فائیر۔نگ شروع کر دی جبکہ سامنے کی طرف سے بھی فائیر۔نگ شروع ہو گئی۔‘ مدعی اس وقت گاڑی کو برق رفتاری سے موقع سے بھگا کر لے گئے مگر اس وقت تک وہ، اُن کا بیٹا اور بیٹی فائیر۔نگ سے زخمی ہو چکے تھے۔ وہ علاج کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال چکوال پہنچے جہاں زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے اُن کی بیٹی ہانیہ جانبر نہ ہو سکی ۔ واقعہ کا مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302، 394 اور 440 کے تحت درج کیا گیا ہے ۔

Post a Comment

0 Comments