سعودی عرب میں حیران کن مثال، ہندوؤں اور سکھوں نے مسلمان کی جان بچا لی

 


خوبصورت مثال قائم : انڈین مسلمانوں ہندوؤں اور سکھوں نے ملکر سعودی عرب میں سزا پانیوالے ایک مسلمان کی جان بچا لی ۔۔ سعودی عرب میں انڈین مسلمان کی سزا۔ئے موت معاف ، اپنے وطن واپس پہنچ گیا۔۔۔ بتایا جارہا ہے کہ نومبر 2006 میں عبدالرحیم کیرالہ میں رکشہ چلاتا تھا ، اس نے یہ کام چھوڑ کرسعودی عرب میں ڈرائیور کی ملازمت اختیار کی ۔نئی ملازمت شروع کیے ابھی صرف 28 دن ہی ہوئے تھے کہ انھیں ایک 17 سالہ مفلوج لڑکے کی دیکھ بھال کی اضافی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی۔ اس کام کے دوران عبدالرحیم پر اس معذور لڑکے کے ق۔ت۔ل کا الزام عائد کر دیا گیا اور عبدالرحیم کو جیل میں ڈال پر اس پر مقدمہ چلا دیا گیا ۔عبدالرحیم کا مؤقف تھا کہ گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھے لڑکے کا سانس لینے والا آلہ غلطی سے الگ ہو گیا تھا۔عبدالرحیم کے اہلِ خانہ اور معاونتی کمیٹی کے ارکان حالیہ دنوں میں شدید پریشانی میں مبتلا تھے کیونکہ 20 مئی کو ان کی عمر قید کی سزا مکمل ہو چکی تھی۔اس دوران مختلف عدالتوں میں متعدد اپیلیں دائر کی گئیں جبکہ سعودی فرمانروا سے سزا معاف کرنے کی درخواست بھی کی گئی تاہم کچھ نہ بن پایا ۔’عبدالرحیم کے وکیل نے 2011 میں پہلی مرتبہ سزا۔ئے موت سنائے جانے کے بعد ہی ہم نے مق۔تول لڑکے کے والد سے بات چیت شروع کر دی تھی، لیکن جون سنہ 2024 میں جا کر سزا۔ئے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا گیا۔‘ساتھ ہی مق۔تول لڑکے کے اہلِ خانہ سے معافی اور تصفیے کے لیے مذاکرات بھی کیے جاتے رہے۔’اکتوبر سنہ 2019 میں ایک وکیل کے ذریعے سنجیدہ سطح پر مذاکرات شروع ہوئے۔ اکتوبر سنہ 2023 میں ہم ایک مفاہمتی معاہدے تک پہنچ گئے۔اس وقت مق۔تول کے خاندان نے ’دیت‘ کے طور پر ایک کروڑ پچاس لاکھ سعودی ریال، یعنی انڈین کرنسی میں تقریباً 34 کروڑ روپے قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔‘عبدالرحیم کا خاندان اتنی بڑی رقم جمع کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا، اس لیے ’عبدالرحیم لیگل اسسٹنس کمیٹی‘ کو ایک فلاحی ٹرسٹ کے طور پر رجسٹر کیا گیا۔’ابتدائی چند ہفتوں میں کراؤڈ فنڈنگ ایپ کے ذریعے صرف دو سے تین کروڑ روپے جمع ہوئے تھے، لیکن بعد میں مقامی ٹی وی چینلز، یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی وجہ سے یہ خبر دور دور تک پھیل گئی۔ مندروں اور گرجا گھروں میں بھی عبدالرحیم کے لیے فنڈ جمع کرنے کی اپیلیں کی گئیں۔‘کاروباری شخصیت بوبی چیمنور کی جانب سے ایک کروڑ روپے عطیہ کرنے کے بعد ترواننت پورم میں فنڈ ریزنگ کے لیے خصوصی مہم بھی شروع کی گئی۔سیاسی جماعتوں اور ملیالم فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی کئی شخصیات نے بھی اس مہم میں حصہ لیا۔کراؤڈ فنڈنگ ایپ یکم مارچ سنہ 2024 کو شروع کی گئی تھی۔انھوں نے کہا کہ ’رقم 34 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ وہ رمضان کا 27 واں دن تھا، شاید اسی وجہ سے لوگوں نے بڑی تعداد میں عطیات دیے لیکن ہدف مکمل ہونے کے بعد ایک غیر متوقع بات ہوئی۔‘’لوگوں نے اس اکاؤنٹ میں رقم جمع کروانا جاری رکھی اور مجموعی رقم 47 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ کمیٹی نے ’دیت‘ کی رقم انڈین وزارتِ خارجہ کے حوالے کی جس کے بعد وزارت نے یہ رقم ریاض میں انڈین سفارت خانے کو منتقل کر دی ’چیک ریاض کے گورنر آفس کے حوالے کیا گیا، جہاں سے اسے عدالت میں جمع کرایا گیا۔ یوں جیل سے رہائی پاکر عبدالرحیم چند روز قبل اپنے آبائی وطن بھارت اور شہر کیرالہ پہنچ گئے ۔۔۔۔


Post a Comment

0 Comments