پشاور کی ایسی خوفناک کہانی، سن کر پولیس بھی دم بخود رہ گئی !

 



پشاور : غیرت کی وجہ سے بھائی نے بھائی کو ق.ت.ل کردیا ۔۔۔ پشاور میں جرائم کی تاریخ میں انوکھا جرم ، جس نے سنا دم بخود ۔۔۔۔ چند روز پہلے پولیس کو اطلاع ملی کہ دو بھائی باجوڑی گیٹ کے علاقہ میں گاڑی پر کہیں جارہے تھے کہ نامعلوم افراد نے انہیں روکا ، لوٹ مار کی کوشش کی لیکن مزاحمت پر فائیر۔نگ کردی جس کے نتیجہ میں ایک بھائی جان بحق اور دوسرا معمولی زخمی ہو گیا ۔۔ پولیس موقع پر پہنچی ، شواہد کا جائزہ لیا گیا تفتیش شروع ہوئی تو پتہ چلا کہ مق۔تول پشاور میں سولر پلیٹس کا ایک ڈیلر تھا ۔۔ پولیس نے زخمی بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا اور قا۔تلوں کی تلاش شروع ہو گئی ۔ اسی دوران پولیس نے مق۔تول کے دیگر دو بھائیوں کو بھی تھانے بلا لیا اور ان سے معلومات لیں مگر وہ بھائی کی موت پر افسردہ اور حقائق سے لاعلم تھے ، قریب تھا کہ یہ واردات ایک اندھے ق۔ت۔ل میں بدل جاتی پولیس نے شک کی بناء پر مدعی سے پوچھ گچھ شروع کی ۔ جب اس نے ایک ہی سوال کے متضاد جواب دینا شروع کیے تو پولیس افسران کا شک یقین میں بدل گیا کہ ضرور دال میں کچھ کالا ہے ۔۔ چنانچہ جب روایتی طریقہ استعمال کیا گیا تو ملزم نے اعتراف جرم کر لیا مگر جو کہانی بتائی اس میں نہ صرف افسران پولیس بلکہ ہر شخص کی ہمدردیاں ملزم کے ساتھ ہو گئیں ۔۔۔ قصہ یہ تھا کہ مق۔تول پر 9 کروڑ روپے کا قرضہ چڑھ چکا تھا ۔ سولر پلیٹس کے کاروبار میں نقصان کے بعد اس نے قرض داروں کا قرضہ اتارنے کے لیے قسطوں پر گاڑیاں خریدیں اور کم قیمت پر فروخت کرکے ادائیگی کی کوشش کی مگر قرض بڑھتا گیا ۔۔ جب مق۔تول نے قرض خواہوں کے مطالبات پر گھر سے نکلنا بھی چھوڑ دیا تو کسی شخص نے اسے آفر کی کہ ایک سال کے لیے اپنی نوجوان اکلوتی اور کنواری بہن میرے پاس چھوڑ دو اور ایک کروڑ روپے لے لو جو واپس بھی نہیں دینا ہونگے اور بہن بھی ایک سال بعد لے جانا ۔۔۔ انتہائی بے غیرت اور انتہائی ضرورتمند نوجوان راضی ہو گا مگر مسئلہ دیگر بھائیوں کا تھا وہ کیسے بغیر نکاح اور شادی بہن کو کسی کے حوالے کر سکتے تھے ۔ وقوعہ کے روز مق۔تول نے ملزم بھائی کے ساتھ کہیں جاتے ہوئے اس بات کا ذکر کیا اور اسے رضا مند کرنے کی کوشش کی تو ملزم کا یہ سن کر پارہ ہائی ہو گیا کہ یہ بندہ بہن کو گروی رکھنے کی بات کررہا ہے اس نے بھائی کو گا۔لیاں دینا شروع کر دین تو مق۔تول نے پستو۔ل نکالا اور بھائی پر فائیر۔نگ کر دی ۔ یہ دیکھ کر بھائی نے مزاحمت کی جھگڑے کے دوران پستو۔ل نیچے گر گیا جو ملزم نے اٹھا لیا ۔ غصہ تو پہلے ہی بہت تھا اوپر سے یہ جھگڑا ۔۔ملزم نے بھائی کو سیدھے فا۔ئیر مارے جو کہ ایک اسکے منہ پر اور دو پیٹ مین لگے ۔چند منٹ کے اندر بھائی نے دم توڑ دیا ۔۔۔ اب ملزم نے خود کو بچانے کے لیے قریب ایک گٹر میں پستو۔ل پھینکا اور نامعلوم افراد والا ڈرامہ بنا دیا ۔۔۔۔۔ پولیس نے تمام حالات سے لاعلم مق۔تول کے تیسرے بھائی کو مدعی بنا کر تفتیش شروع کردی ہے ۔۔۔۔ دیکھیں اب اس مقدمے کا کیا بنتا ہے ؟؟ پشاور میں جس نے بھی یہ کہانی سنی ملزم کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ۔۔آپ اس حوالے سے کمنٹس میں بتائیں کہ ملزم نے درست کیا یا غلط ۔۔۔۔؟؟؟ ش س م


Post a Comment

0 Comments