سچ کہتے ہیں بیٹے باپ کی جائیداد اور بیٹیاں میت کی وارث ہوتی ہیں ۔۔۔۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تھانہ اروتی کی حدود میں چند روز قبل پیش آیا اندوہناک واقعہ ۔۔۔۔ بیٹے نے باپ کو فائر مار دیے اور پھر رو دھو کر زخمی باپ سے لپٹنے لگا معافی مانگنے لگا تو کیا واقعہ پیش آیا ۔۔۔۔ مق۔تول محمد شریف کی بیٹی نے ساری کہانی بتا دی ۔۔۔۔۔ محمد شریف کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ۔ دو بہنیں شادی شدہ جب کہ ایک کنواری ہے ۔ انکی بیوی کچھ سال پہلے انتقال کر گئی تھی جسکے بعد والد نے ماں اور باپ دونوں کا پیار دے کر اپنے بچوں کو پالا وہ انکی ہر ضرورت کا خیال رکھتا تھا ، ملزم اسد نے ایک سال قبل باپ سے کچھ پیسے لیے اور بتایا کہ وہ فیصل آباد میں کاروبار کرتا ہے باپ بہت خوش ہوا لیکن اصل میں اسد سب پیسہ عیاشیوں میں لٹا رہا تھا وہ ہر ماہ گھر آتا والد سے ادھار مزید پیسے لیتا والد بھی پیسے دیتا رہا لیکن یہ کہتا اب تم کاروبار والے ہو یہ ادھار ہے تم نے واپس کرنے ہیں ۔۔۔ ڈیڑھ سال میں اسد پر اپنے والد کا 10 لاکھ روپے قرضہ چڑھ گیا اب والد پیسے دے کر تھک چکا تھا اور مزید پیسے دینے کی اس میں ہمت نہیں تھی چنانچہ بیٹے نے باپ کے خلاف ایک منصوبہ بنایا اور کچھ ہفتے قبل رات کو باپ کو گو۔لی مار دی ۔ دوسرے کمرے میں موجود بیٹی بھاگ کر آئی تو باپ زخمی باپ نے اسے بتایا کہ تمہارے بھائی نے خود مجھے گو۔لی ماری ہے ۔ لیکن کسی کو یہ مت بتانا ورنہ خاندان کی بدنامی ہو گی کہ بیٹے نے باپ کو گو۔لی ماری ہے ۔باپ کو زخمی دیکھ کر ملزم گھبرا گیا اس نے باپ سے معافی مانگنے اور قریب آنے کی کوشش کی مگر باپ نے بیٹے کا ہاتھ جھٹک دیا اور نظروں سے دور ہو جانے کو کہا بعد میں محمد شریف ہسپتال میں دم توڑ گیا اور بیٹے نے مشہور کردیا کہ اس کے باپ نے خود۔ کشی کی تھی ۔۔۔۔ پولیس نے تفتیش کی مگر محمد شریف کے مدعی بھائی کو اس وقت سارے واقعہ کا علم نہیں تھا اس لیے پولیس بھی کچھ نہ کر سکی مگر بعد میں مق۔تول کی بیٹی نے اپنی بہنوں اور بڑے بھائی کو سارا واقعہ بتا دیا اس طرح بات سامنے آئی اور محمد شریف کے مدعی بھائی نے پولیس کو اطلاع کردی ۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا جس نے دوران تفتیش اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے ۔ مق۔تول محمد شریف کی بیٹی کا کہنا ہے کہ میں اپنے باپ کے قا۔تل کو سزا دلوا کررہونگی چاہے وہ میرا سگا بھائی ہے ۔ مجھے باپ کی قبر کو دیکھنا ہے نہ کہ بے غیرت بھائی کو ۔۔۔۔
0 Comments