گھر کی عزت اور غیرت کے نام پر اپنی جوانی قربان کرنے والا لاہوریا: 16 سال کی عمر میں اپنے سالے کو ق.ت.ل کیا اور 10 سال جیل کاٹی ۔۔۔ ایک ایسی کہانی کہ آپ اس نوجوان کی ہمت کی داد دیے بغیر نہ رہیں گے ۔۔۔برسوں قبل فری المعروف آغا سلطان 4 یا 5 سال کا تھا جب اسے محسوس ہوا کہ اسکی بڑی بہن کے جیدا نامی ایک نوجوان کے ساتھ تعلقات ہیں ۔ بہن لیڈی میگلیگن سکول میں پڑھتی تھی اور جیدا ایک ٹیلر ماسٹر کی دکان پر کام کرتا تھا ۔۔۔ فری یہ بھی دیکھتا کہ اسکے والدین بہن کو جھڑکتے ہیں ماموں بھی غصہ کرتے ہیں لیکن جیدے اور انکی بہن بہن کا اگلے روز پھر یہی تماشا ہوتا ۔۔۔ ایسے حالات میں فری 15 یا 16 سال کی عمر کو پہنچ گیا ۔ تب تک اسے ساری کہانی اچھی طرح سمجھ آچکی تھی ۔ دراصل سارا قصور جیدے کا بھی نہیں تھا انکی بہن بھی اس سلسلے میں ذمہ دار تھی ۔۔ عام نوجوانوں کی طرح فری عمر سے بڑی باتیں کرتا اور اچھی خاصی سمجھ بوجھ رکھتا تھا ۔۔۔ ایک روز فری جیدے کے پاس گیا اور اسے کہیں اکیلے بٹھا کر صاف صاف پوچھا کہ تم کیا چاہتے ہو ۔ ہمارے ساتھ جو کچھ کررہے ہو پورے محلے میں طرح طرح کی باتیں ہوتی ہیں ۔ آخر چاہتے کیا ہو ؟ جیدا بولا میں عزت دینا چاہتا ہوں ۔۔ فری نے کہا ٹھیک ہے جمعہ کے روز نکاح خوان اور گھر والوں کو لے کر ہمارے گھر آجاؤ ۔۔۔ جیدے کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا جب فری گھر پہنچا اور والد سے بات کی تو انہوں نے اس اقدام کی مخالفت کی ، بڑے بھائی نے بھی انکار کردیا مگر ماں فری کے ساتھ کھڑی ہو گئی ۔ شریف باپ بیٹا جمعہ کے روز کہیں چلے گئے اور فری نے مقررہ وقت پر اپنی بہن کا نکاح جیدے کے ساتھ پڑھوا دیا اور اسے اسی روز گھر سے رخصت کردیا ۔۔۔۔ فری کا خیال تھا کہ اپنی منزل پاکر جیدا انسان بن جائے گا مگر نہیں جیدے نے فری سے بدتمیزی شروع کردی ۔ سر راہ سب کے سامنے پکارتا اوئے سالے جی : کیا حال ہے ؟ کبھی ماں بہن کی گا۔لی دیتا ۔۔۔ شاید اس خاندان کی شرافت کو جیدے نے اپنی کمزور سمجھ لیا تھا ۔۔۔ لیکن چند ہفتے گزرے تو ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ۔۔ فری کی چھوٹی بہن قریب ہی مشہور سرکاری سکول میں پڑھتی تھی ، فری اسے لینے جاتا تھا اب اس نے نوٹ کیا کہ جیدا اکثر سکول کے گیٹ کے پاس منڈلاتا ہے اور اسکی نظر بھی انکی چھوٹی بہن پر ہوتی تھی ۔ کچھ روز نظر رکھنے کے بعد فری کو یقین ہو گیا کہ جیدا اب انکی چھوٹی بہن کو تاڑتا ہے تو ایک روز فری جیدے کے والدین کے پاس چلا گیا ۔ اسکے والد اور بھائی اچھے لوگ تھے انہوں نے فری کی بات غور سے سنی اور جب جیدا گھر واپس آیا تو اسے خوب لعنت ملامت کی ۔۔۔۔ اگلے روز جیدا 16 سالہ فری کو پیار سے اور معافی مانگتے ہوئے یعنی شرمندگی والی باتوں کے دوران ایک فلیٹ پر لے گیا جیدے کے ساتھ ایک دوست بھی تھا دونوں نے فلیٹ کا دروازہ اندر سے بند کر لیا اور فری کو نہ صرف تش۔دد کا نشانہ بنایا ۔نازیبا حرکات کیں بلکہ خنجر دکھا کر اسے بے لباس کرکے ایک کیمرے سے اسکی تصویریں بھی بنا ڈالیں ۔۔ 2 مسٹنڈوں کے سامنے ایک کم عمر لڑکا کیا کر سکتا تھا خاص کر جب اسکی نازیبا تصویریں بھی بن گئیں ، اب فری نے ان سے پوچھا کیا چاہتے ہو اور کیسے ہماری جان چھوڑ دوگے ۔۔ اس پر جیدے نے صاف کہا کہ تمہاری بڑی بہن ، چھوٹی بہن اور اب تمہاری تصویرں ہمارے پاس ہیں اگر تم چاہتے ہوں کہ ان تصویروں کے پوسٹر محلے میں ہر جگہ نہ لگیں تو کل صبح سے اپنی چھوٹی بہن کو سکول کی بجائے سیدھے یہاں لے آؤ گے ۔ اور جب چھٹی کا وقت ہو گا تو دوبارہ آکر لے جاؤ گے ۔۔۔ اور یہ سلسلہ جب تک میں کہوں گا بلاناغہ جاری رہے گا ۔۔۔۔ فری نے ہاں میں ہاں ملائی اور ان کے نرغے سے نکل آیا مگر باہر گلی میں آتے ہی فری کے سینے میں ایک آتش فشاں ابل پڑا ۔ اس کا دل چاہا کہ یا تو یہ کسی کو مار ڈالے یا پھر کوئی اسکا خاتمہ کردے کیونکہ اب خاندان کو رسوائی سے بچانے کا کوئی اور طریقہ نہ تھا ۔۔۔ خیر کسی نہ کسی طرح فری گھر پہنچا اور چھت پر جاکر لیٹ گیا یہ سوچتا رہا کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے ، چھوٹی بہن کو سالے کے سامنے پیش کرنے سے پہلے موت کی دعا کرتا رہا پھر جیدے کو ق۔ت۔ل کرنے کے پلان بناتا رہا کبھی خود۔ کشی کا خیال آتا اور کبی ماں اور بہن کا چہرہ سامنے آجاتا انہی خوابوں اور خیالوں میں رات اور پھر صبح ہو گئی ماں نے اسے چھت پر آکر جگایا کہ چھوٹی کو سکول چھوڑ آؤ مگر اس نے کہا رہنے دیں آج اسے چھٹی کروا دیں میری طبیعت ٹھیک نہیں ۔۔۔ پتہ نہیں کیوں ماں کچھ نہ بولی اور واپس چلی گئی ۔ 10 بجے کے قریب فری گھر سے نکل کر گلی میں آیا تو جیدا اسے نظر آگیا ، شاید وہ اپنے کوارٹر پر اتنظار کرکے اب یہاں آگیا تھا ۔ فری کو معلوم تھا کہ جیدے کے پاس خنجر ہو گا اور شاید پستو۔ل بھی ، جیدے نے قریب آکر فری کو گا۔لی دی تو یہ اسے قریب ہی ایک بند دکان کے تھڑے پر لے گیا کہ کوئی عذر پیش کرکے اس سے جان چھڑائے اور پھر محلے کے کسی معتبر سے مشورہ کرے۔ جیدے کو اپنا مطلب تھا چنانچہ وہ بھی فری کی بات سننے آگیا اور یہ تھڑے پر بیٹھ گیا جیدے کا دوست بھی ساتھ ہی موجود تھا ۔ فری نےہمت کرکے جیدے سے پوچھا ،اوئے یہ بتاؤ تم چاہتے کیا ہو ؟ جیدے نے الٹے ہاتھ سے ایک تھپڑ فری کو جڑ دیا ۔ تو فری اٹھا اور یہ دونوں باہم دست و گریبان ہو گئے ۔ جیدے نے جیب سے خنجر نکالا دھینگا مشتی میں خنجر زمین پر گر گیا جسے فری نے اٹھا لیا پھر کیا ہو گیا فری کو آج تک یاد نہیں بس یہ پتہ چلا کہ جیدا زخمی ہو کر گر گیا اور اسے ننجا سوزوکی سکواڈ یعنی پولیس والوں نے کچھ دور بھاگتے ہوئے پکڑ لیا اور تھانے لے گئے ۔ اس دوران فری شور مچاتا رہا مجھے مار ڈالو مجھے مار ڈالو ۔۔۔ تھانے لے جا کر پولیس ملازموں نے اسے پانی پلایا ۔۔ تب تک جیدے کی موت کیا اطلاع آچکی تھی ۔۔ فری نے ایس ایچ او ملک عابد کے سامنے سارا اور پورا واقعہ بیان کردیا ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پولیس نے ایک تھپڑ بھی مارے بغیر فری کےا عتراف جرم کے بعد اسے چالان کرکے عدالت میں پیش کیا اور پھر جیل بھیج دیا ۔ فری پر مقدمہ چلا اور اسے عدالت نے سزا۔ئے موت سنا دی ، بعد میں اپیلیں ہوئی ۔ فری کے والد اور بھائیوں نے کیس لڑا اور آخر کار ساڑھے 9 سال کا عرصہ جیل میں گزار کر فری آزاد ہو گیا آج آغا سلطان المعروف فری لاہور میں پر امن زندگی گزار رہا ہے ۔۔۔ آپ نے کہانی پڑھی ۔ یہ ضرور بتائیں کہ غیرت کے نام پر فری کا یہ جرم درست تھا یا غلط ۔۔ کیا فری کے پاس کوئی اور آپشن تھا ؟؟؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں

0 Comments