ماں ہو تو ایسی : یہ واقعہ کچھ ماہ پرانا ضرور ہے لیکن بڑا سبق آموز ہے ، کراچی ملیر جیل میں ایک حادثہ ہوا اور بھگدڑ مچی تو کئی قیدی فرار ہو گئے ۔ ان میں ایک نوجوان قیدی جسکا کیس انڈر ٹرائل تھا وہ بھی فرار ہو کر گھر پہنچ گیا ، جب اسکی ماں نے اسے دیکھا تو پوچھا کیا تم رہا ہو گئے ؟ نوجوان نے جواب دیا موقع ملا اور فرار ہو کر آیا ہوں کئی اور قیدی بھی بھاگے ہیں ۔۔۔ اس پر ماں نے بیٹے کو کھانا یا ناشتہ بنا کردیا اور پھر اسے سمجھایا بیٹا : پولیس تجھے تلاش کرے گی اور تم جدھر بھی چھپ جاؤ گے تمہیں ڈھونڈ لے گی ہو سکتا ہے تمہیں گو۔لی مار دے ، میں تمہاری زندگی چاہتی ہوں اور عدالت کے ذریعے باقاعدہ رہائی چاہتی ہوں ۔ ایک مفرور مجرم بن کر زندہ رہنے کی بجائے اچھے قیدی بن کر اپنے کیس کا سامنا کرو ، ماں نے بیٹے کو بازو سے پکڑا اورکئی میل پیدل چلا کر جیل کے دروازے پر لے آئی اور حکام کے حوالے کردیا ۔ حیرانگی اس بات کی ہے کہ اس خاتون کے پاس رکشہ یا ٹیکسی پر جیل تک آنے کے پیسے بھی نہیں تھے مگر صلح پسند دور اندیش ماں نے ایک زبردست فیصلہ کیا اور بیٹے کو خود قانون کے حوالے کردیا ۔۔ دعا ہے کہ یہ قیدی جلد از جلد رہا ہو کر اپنی والدہ کا سہارا بنے

0 Comments