ڈسکہ کی زہرہ قدیر پر کیا بیتی: وہ وقت جب بیوی کا خیال زیادہ رکھنے پر ایک ساس نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ ملکر بہو کو دردناک طریقے س ق۔ت۔ل کر ڈالا ۔۔۔ شاطر خواتین کیسے پکڑی گئی تھیں ؟ حیران کن سچی کہانی " یہ 2024 کا واقعہ ہے ۔ زہرہ قدیر کی عادت تھی کہ روزانہ متعدد بار اپنے والد اور بیرون ملک مقیم شوہر سے بات کرکے انکی خیریت دریافت کرتی اور انہیں حال احوال بتاتی ۔ وہ ایک بیٹے کی ماں تھی اور 9ماہ کی حاملہ بھی تھی ۔ اسکا شوہر سعودی عرب میں مقیم تھا اور سال میں ایک دو بار اپنی بیوی اور بچے کو وہاں ملنے کے لیے بلا لیتا تھا ۔ زہرہ کی ساس اور نندوں کو جلن تھی کہ انکا بیٹا اور بھائی اپنی بیوی سے اتنی محبت کیوں کرتا ہے ۔ وقوع سے ایک روز پہلے جب زہرہ قدیر نے اپنے والد غلام شبیر سے بات نہ کی اور نہ اس سے رابطہ ممکن رہا تو زہرہ کے والد اسکے گھر پہنچ گئے جہاں وہ اپنی ساس اور نندوں کے ساتھ رہتی تھی ، جونہی وہ گھر میں داخل ہوئے تو انہوں نے بیٹی کو آوازیں دیں ۔ مگر زہرہ کی ساس نے بتایا کہ وہ گھر میں نہیں ہے لگتا ہے کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے ۔۔۔۔۔یہ سن کو زہرہ کے والد اسکے کمرے میں گئے مگر وہ وہاں بھی نہ تھی ، اس دوران زہرہ کے والد نے نوٹ کیا کہ کمرے کا فرش دھویا گیا تھا ۔ اور زہرہ کا بیٹا وہاں اکیلا بیٹھا تھا انکے دل میں شکوک اٹھے مگر انہوں نے دل کو تسلی دی اور رشتہ داروں میں اپنی بیٹی کو ڈھونڈنے چلے ساتھ ہی انہوں نے مقامی پولیس کو بھی اطلاع کردی پولیس کو یہ بھی بتایا گیا کہ ماضی میں بھی ایک بار زہرہ قدیر کو سسرال میں ق۔ت۔ل کرنے کی کوشش کی جا چکی ہے مگر پھر صلح سے معاملہ ختم ہو گیا تھا ۔۔۔ جب شبیر احمد کی درخواست پر مقامی پولیس نے کارروائی کی اور مقدمہ درج ہونے کے بعد زہرہ کے سسرال والوں سے تفتیش کی مق۔تولہ کی ساس اور نند نے انکشاف کیا کہ انھوں نے اپنے رشتہ داروں کی مدد سے زہرہ کو ق۔ت۔ل کرنے کے بعد اس کی لا۔ش کے ٹکڑے کرکے نالے میں پھینک دیے ہیں۔پولیس ترجمان وقاص علی نے دعویٰ کیا کہ ملزمان خواتین نے پولیس کے سامنے اعترافِ جرم کرتے ہوئے اس ہولناک واردات کی ساری تفصیلات بتا دی اور قتل میں استعمال ہونے والا ٹوکا اور چھری بھی بر آمد کروا دیں۔ زہرہ کی ساس نے اعتراف کیا کہ اسکی بیٹیوں اور ایک نواسے وعزیز نے مل کر یہ واردات کی ملزمان خواتین نے صرف اور صرف جلن اور حسد کی بنا پر یہ جرم کیا اور نہ صرف تین ماں بیٹیاں بلکہ زہرہ کی ایک نند کا بیٹا اور ایک عزیز بھی ملوث ہوا جسے اس کام کے لیے لاہور سے بلایا گیا سب سے پہلے تو پولیس نے زہرہ قدیر کے جسم کے ٹکڑے 48 گھنٹے لگا کر ڈھونڈے ، بڑی مشکل سے جاکر زہرہ قدیر کا جسم کچھ ادھورا اور کچھ مکمل ملا تو پوسٹ مارٹم ہوا اور اسکی لا۔ش یا ٹکڑے شبیر احمد کے حوالے کیے گئے ، زہرہ قدیر کے جسم کے ان ٹکڑوں کو غسل دینے والی خواتین اس روز دھاڑیں مار مار کر روئی تھیں کہ اتنا مشکل غسل انہوں نے پوری زندگی میں کسی خاتون کو نہیں دیا ۔۔۔۔ پولیس نے بعد میں اس واردات کے تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا اور یہ ملزمان ابھی تک جیل اور عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں ۔۔۔۔
0 Comments