بے شرمی کی انتہا ایک گھٹیا مقدمے میں سگے بہن بھائیوں نے ایک دوسرے کو تھانے اور ایف آئی اے میں گھسیٹ لیا

 


یہ کسر باقی تھی : نازیبا تصویروں پر تنازعہ ۔۔۔سگے بہن بھائیوں نے ایک دوسرے کو تھانے اور ایف آئی اے میں گھسیٹ لیا ۔۔۔۔چیتھڑے اڑا دیے ۔۔۔لاہور :چونگی امر سدھو کی ایک خاتون کے اپنی سگی بہن اور بھائی پر شرمناک الزامات ۔۔۔۔ یوٹیوب کی ویڈیو اچانک وائرل جس نے دیکھی ۔ کانوں کو ہاتھ لگا لیے ۔۔۔۔ شازیہ نامی اس خاتون کے نشانے پر اسکی بہن بشریٰ ہے ، اللہ جانے حقیقت کیا ہے مگر کیمرے کے سامنے آکر اپنی بہنوں اور بھائیوں کی عزت اچھالنے بلکہ انہیں عریاں کرنے کا مظاہرہ پہلی بار سامنے آیا ہے ۔۔۔۔ شازیہ کے مطابق میں نے ایک پلاٹ مسجد کے لیے مختص کررکھا تھا میری بہن بشری نے اس پر قحبہ خانہ کھول لیا ہے لاہور کے امیر علاقوں کے لوگ اسکے گاہک ہیں ۔ ایک ایک کے پاس کئی کئی دن رہتی ہے ۔ لاکھوں روپے ایک ہفتے میں لے کر واپس آتی ہے ۔ جب ہم منع کرتے ہیں تو ہمارے اوپر الزام لگانا شروع کردیتی ہے ۔ بشریٰ کے حالات یہ ہیں کہ ہر وقت اسکے بیگ میں گو۔لیوں کے پتے موجود ہوتے ہیں جو خود اپنے گاہکوں کو کھلاتی ہے ۔بقول شازیہ میری بہن بشریٰ کے حالات اس کتی والے ہو گئے جسے چسکا پڑ گیا ہے اور کچھ نہیں دیکھتی ۔ جب کہیں نہ جائے تو اس نے چار عاشق رکھے ہوئے ہیں باری باری انہیں بلاتی ہے ، کوئی اسے کڑاہیاں لا کر دیتا ہے کوئی میکڈونلڈ کے برگر ، ایک قاری صاحب ہیں وہ صدقے کا گوشت اور بریانیاں اسکے لیے کلو کے حساب سے لاتے ہیں ۔ اتنی بے غیرت ہے کہ موجودہ شوہر اسے پیسے نہ دے تو اپنی سگی 8 سالہ بیٹی کی دھم۔کی دیتی ہے کہ اسکے لیے گاہک بلا لوں گی اگر پیسے نہ دیے تو ۔۔۔ اور اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اسی بیٹی کو ایک رشتہ دار خاتون کے پاس چھوڑ کر گاہک کے ساتھ مری چلی گئی ، اس رشتہ دار کے بیٹوں نے گول مٹول بچی کو خراب کرکے رکھ دیا ، واپس آئی اور ماں نے سب بتایا تو رشتہ دار اور اسکے بیٹوں پر کیس کردیا ۔۔۔۔۔ اس الزام لگانے والی خاتون شازیہ کا مطالبہ ہے کہ ہماری بہن بشریٰ اور بھائی عامر نے خود اپنی نازیبا تصاویر بنا کر ہمارے اوپر الزام لگا دیا ہے حالانکہ ہمارا قصور صرف یہ ہے کہ ہم اسے غلط کاری سے منع کرتے تھے ۔ ہماری توبہ ہم اسکے کسی کام میں دخل دیں لیکن حکام بالا اور افسران اس معاملے میں کمیٹی بنا کر ہمیں سگے بھائی اور بہن کے ہاتھوں رسوا اور ذلیل ہونے سے بچا لیں ۔۔۔۔۔


Post a Comment

0 Comments