بے گناہ کا خو۔ن رائیگاں نہیں جاتا ۔۔۔!!! 16 سال روپوش رہنے والا 302 کا مجرم اشتہاری جہلم سے گرفتار ۔۔۔۔ جون 2010 میں ریٹائرڈ خاتون ٹیچر نسیم اختر کو خانیوال کے علاقہ لکڑمنڈی میں انکے گھر میں بیدردی سے ق۔ت۔ل کردیا تھا ، اور 5 لاکھ روپے کی نقدی اور زیورات چھین کے فرار ہو گئے تھے خاتون اکیلی رہتی تھیں قا۔تل انکا شاگرد جاوید اور اسکے 2 ساتھی تھے ۔جنہوں نے پہلے انہیں نیند کی گو۔لیاں دے کر بے ہوش کیا اور پھر مال اسباب لوٹا اور خاتون کا گلہ کاٹ کر بھاگ نکلے ۔ 2 دن بعد محلے میں بدبو پھیلی تو اس واردات کا انکشاف ہوا ۔ پولیس کی کوشش سے خاتون کے ایک قا۔تل کو کچھ ہفتوں بعد گرفتار کر لیا گیا جس نے ساتھیوں کے نام بتا دیے مگر مرکزی قا۔تل جاوید ایسا روپوش ہوا کہ درجنوں پولیس ریڈز کے باوجود اسے گرفتار نہیں کیا جا سکا ، پچھلے چند ماہ سے آئی جی پنجاب اور آر پی او ملتان کی ہدایت پر پرانے سنگین کیسز کے مجرمان اشتہاری کے خلاف جاری مہم میں جاوید کا نام بھی ریڈار پر آگیا ، پولیس نے مختلف طریقوں سے انتھک محنت کی اور آخر کار چند روز قبل مجرم کو جہلم سے گرفتار کیا گیا ، ملزم نے نہ صرف اپنے جرم کا فوری اعتراف کر لیا بلکہ یہ بھی بتایا کہ سارے عرصے میں وہ موبائل فون بہت کم استعمال کرتا ۔ کسی نہ کسی جاننے والے کے ذریعے اپنے رشتہ داروں اور گھر والوں سے رابطہ کرتا تھا ۔ یہی رابطے اسکی لوکیشن ڈھونڈنے میں پولیس کے معاون بن گئے ۔ ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ ایک شہر میں نہیں رہا مختلف شہروں میں پھرتا رہا معمولی کام اور مزدوریاں کرکے پیٹ پالتا رہا اور واردات میں ہاتھ لگے پیسے اس نے چند ماہ میں خرچ کر ڈالے تھے ۔۔۔۔ پولیس اس کیس پر مزید کام کررہی ہے اور امید ہے کہ قا۔تلوں کو قرار واقعی سزا ضرور ملے گی ۔۔۔۔

0 Comments