ساہیوال میں درندگی کی انتہا ہوگئی 14 سالہ حسن قادر کے والدین کے انکشافات نے دل دہلا دیا

 


ہائے میرا پتر : نہ سوہنا کھا سکیا نہ سوہنا ہڈا سکیا ۔۔۔ساہیوال میں درندگی کے بعد ق۔ت۔ل ہونیوالے 14 سالہ حسن قادر کے والدین کی دہائیاں ۔۔۔۔ ڈی پی او ساہیوال عثمان ٹیپو نے افسوسناک واقعہ کی تفصیلات بتا دیں ۔۔۔۔ حسن قادر 3 بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اور سکول میں زیر تعلیم تھا جس روز یہ لاپتہ ہوا، اس روز سکول سے واپس آنے کے بعد ماں کے ساتھ کھانا کھایا اور پھر اپنے والد کی بائیک پر کالج سے بہن کو لینے چلا گیا ۔ مگر یہ بہن کے پاس نہ پہنچا اس سے پہلے ایک واقف اور رشتہ دار لڑکا اسے بہانے سے کہیں اور لے گیا جہاں اس کے دو ساتھی موجود تھے ۔انہوں نے پلان کے تحت حسن قادر کی بائیک کو کک ماری اور موبائل بھی لے لیا حسن قادر انکی منت سماجت کرتا رہا کہ میرے والد مجھے ماریں گے مجھے موبائل اور بائیک دے دو مگر یہ تینوں اسے ویران کھیتوں میں لے گئے جہاں اسے زیا۔دتی کا نشانہ بنایا تو بچے کی حالت غیر ہو گئی ، جرم پکڑے جانے کے ڈر سے تینوں نے ملکر بچے کو بے دردی سے ق۔ت۔ل کیا اور پھر لا۔ش کے کئی ٹکڑے کردیے اور کافی دور دور پھینک دیے کہ جانور اور کوے کھا جائیں ۔۔۔ پھر یہ موقع سے فرار ہو گئے ۔۔۔۔ گھر والے اور اہل محلہ و رشتہ دار بچے کو ایک ہفتہ تلاش کرتے رہے ساہیوال کا ایک ایک گلی محلہ چھان مارا ، پولیس بھی حرکت میں رہی ، آخر جو موبائل اس بچے سے چھینا گیا تھا ، خوش قسمتی سے اس موبائل کا ڈبہ گھر میں پڑا تھا جو پولیس کو فراہم کیا گیا پولیس کی ٹیکنیکل ٹیم کو اس موبائل میں کوئی اور سم آن ہونے کی اطلاع ملی ۔ اس سم اونر کو فوری طور پر ٹریس کرکے گرفتار کیا گیا اور پوچھ گچھ کی گئی تو درندہ صفت مجرم نے نہ صرف لا۔ش کی نشاندہی کردی بلکہ اپنے دیگر دونوں ساتھیوں کے نام بھی بتا دیے ، یوں پولیس نے ان دونوں کو بھی گرفتار کر لیا ۔۔۔۔ افسوس اس بات کا ہے کہ بدقسمت ماں اپنے بچے کا آخری دیدار بھی نہ کرسکی کیونکہ اسکا جسم سلامت نہ تھا اور نہ ہی چہرہ دیکھنے لائق تھا ۔ ایک ہفتے میں کورے گدھ اور اوارے کتے بچے کا ٹکڑوں میں بٹا جسم کھا چکے تھے ۔۔۔ ساہیوال پولیس کے متعلقہ تفتیشی افسران اور خاص کر ڈی پی او عثمان ٹیپو کو اس گھناؤنی واردات کا بہت رنج ہوا ۔۔۔ جسکے بعد ایک پولیس مقابلے میں تینوں درندوں کو ٹھکانے لگانے کا انتظام قدرت نے کردیا ۔۔۔۔ یقینا! اکلوتے بیٹے سے ہاتھ دھونے والے والدین اور بہنوں کا غم بہت بڑا ہے لیکن ایسے درندوں کے بوجھ سے زمین کو پاک کردیا گیا اس کارنامے پر پولیس شاباش کی مستحق ہے ۔۔۔۔۔


Post a Comment

0 Comments