زیادہ پیچھے نہ جائیں ساتویں کلاس سے میری عادت ہے میرے بھائی عبدالرحمان کو جس نے بھی چھیڑا اسکو میں نے نہیں چھوڑا ، ہم ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے ، میری بڑی بہن ،میں اور عبدالرحمان ۔۔۔۔بریک ٹائم میں وہ اکثر روتا ہوا میرے پاس آتا اور کہتا ، مجھے فلاں لڑکے نے مارا ہے ، اور پھر چھٹی کے بعد اس لڑکے کی شامت آجاتی تھی ۔۔۔۔۔۔جس روز عبدالرحمان قتل ہوا یہ دن میرے لیے قیامت سے کم نہیں تھا ، اسکے ساتھ ہوئے واقعہ کی خبر سن کر مجھے لگا آسمان ہمارے اوپر گر گیا ہے اور ہر طرف تاریکی ہے ۔۔۔ ہم صبح شام اسے دعاؤں میں لپیٹ کررکھتے ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اسے کچھ ہو گا مگر اللہ کے کام اللہ ہی جانے ۔۔۔میں ساری رات تھانے میں بیٹھی رہی ۔ساری رات اپنے بھائی سے لپٹ کر روتی رہی ۔ میں نےتھانہ پہلی بار دیکھا تھا مجھے ایف آئی آر کا پتہ نہیں تھا کیسے ہوتی ہے ، بہرحال جو مجھے پولیس والوں نے لکھ کر دیا ، میں اس پر دستخط کرکے عبدالرحمان کی میت لے کر گھر آگئی۔۔۔۔عبدالرحمان ہمارا اکلوتا بھائی اور ہمارا واحد سہارا تھا ، ہم اسے دیکھ کر جیتے تھے ، پتہ نہیں ہمارے اسکے بارے میں کیا خواب تھے ، سب کچھ ختم ہو گیا ۔۔۔ اب اگر رہے گی تو صرف وہ دشمنی جو میری عبدالرحمان کے قاتلوں سے ہے ، عبدالرحمان بے گناہ مارا گیا ، اس نے کچھ کیا ہوتا تو ہم کہتے کہ جیسی کرنی ویسی بھرنی ، اب تو جو مرضی ہو جائے یہ دشمنی میری آخری سانس تک رہے گی ، میں کچھ کر سکوں یا نہیں ، یہ قسمت کی بات ہے دشمنی کسی صورت ختم نہیں ہو گی۔۔۔۔۔ اللہ اور اسکے رسول کے احکامات اور فرمان سر آنکھوں پر ۔۔ کچھ کاموں میں مصروف تھی ، اب امید ہے جلد شادی کے بندھن میں بندھ جاؤنگی باقی جو اللہ کو منظور ۔۔۔۔۔ پنجاب کی بہادر بیٹی سدرہ سعید بندیشہ کی باتیں

0 Comments