قدرت کا انصاف :سابق ایس پی ظلم کی ایسی داستان پورا اسلام آباد ہل کر رہ گیا

 





میں پولیس افسر رہا ہوں مجھ پر کون شک کرے گا ۔۔ ایسا سوچنے والے اسلام آباد پولیس کے سابق ایس پی کو ایک نوجوان کے ق۔ت۔ل

کیس میں سزا۔ئے موت سنا دی گئی ۔۔۔۔اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے سینیٹ کے ملازم 28 سالہ نوجوان حمزہ خان کے ق۔ت۔ل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے سابق ایس پی عارف حسین شاہ کو سزا۔ئے موت سنادی ہے۔اس کے علاوہ اس واقعے میں ملوث دو افرد کو عمر قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔ جن مجرمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، ان میں عارف حسین شاہ کا بیٹا بھی شامل ہے۔واضح رہے کہ سینیٹ کے ملازم حمزہ خان کو گزشتہ برس اسلام آباد میں ان کے گھر سے اغ۔وا کرنے کے بعد ق۔ت۔ل کر دیا گیا تھا اور بعد ازاں پولیس نے مق۔تول کی لاش کو عارف حسین شاہ کے گھر سے برآمد کیا تھا جو مانسہرہ میں واقع ہے۔گذشتہ برس 15 مارچ کو اسلام آباد سے حمزہ خان اپنے گھر والوں کو یہ بتا کر نکلے کہ وہ مانسہرہ میں اپنے بچپن کے دوست کے والد سے ملنے جا رہے ہیں، جن کے ساتھ ان کا لین دین کا تنازعہ چل رہا تھا۔15 مارچ کو گھر سے روانہ ہونے والے حمزہ کا تین دن تک کوئی اتا پتا نہیں تھا۔ حمزہ خان کے لاپتہ ہونے پر ابتدائی طور پر ان کے بھائی محمد وقار کی مدعیت میں ان کی گمشدگی کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا۔ابتدائی ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ’حمزہ خان 15 مارچ کو گھر سے صبح گیارہ بجے کے لگ بھگ نکلے تھے اور ابھی تک ان کے متعلق کوئی خبر نہیں ہے اور نہ ہی ان سے رابطہ ممکن ہو پا رہا۔‘حمزہ کے گھر والوں نے جب ان کے بچپن کے دوست اور ان کے والد سے حمزہ کے متعلق جاننے کے لیے رابطہ کیا تو انھیں بتایا گیا کہ ’انھوں نے حمزہ کو ضلع مانسہرہ کے علاقے خاکی سے اسلام آباد کے لیے روانہ کر دیا تھا۔‘واضح رہے کہ حمزہ کے دوست کے والد اسلام آباد پولیس میں ایس پی رہ چکے ہیں۔حمزہ کی گمشدگی کے مقدمے کے اندراج کے کچھ دن بعد ان کے بھائی وقار نے تحریری بیان میں اپنے بھائی حمزہ خان کے بچپن کے دوست اور ان کے والد کو اس مقدمے میں نامزد کر دیا۔پولیس نے شک کی بنیاد پر حمزہ کے دوست اور ان کے والد کو گرفتار کیا تو وہ دونوں اپنے اسی موقف پر قائم رہے کہ انھوں نے حمزہ کو خاکی کے علاقے میں گاڑی سے اتار دیا تھا اور وہ حمزہ کی گمشدگی کے سلسلے میں اپنی لاعلمی ظاہر کرتے رہے۔پھر 15 اپریل کو اسلام آباد پولیس نے مانسہرہ پولیس کی مدد سے حمزہ کی لا۔ش کو مانسہرہ سے برآمد کیا، جہاں پر ان کو گڑھا کھود کر مٹی اور گوبر میں دفن کیا گیا تھا۔ڈی آئی جی اسلام آباد جواد طارق نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ 28 سالہ حمزہ کو ان کے دوست کے والد جو اسلام آباد پولیس کے سابق ایس پی ہیں، نے اپنے ہی بہنوئی کے ساتھ مل کر ق۔ت۔ل کیا۔ڈی آئی جی اسلام آباد نے دعویٰ کیا کہ حمزہ کو ان کے دوست کے والد نے لین دین کے تنازعے پر مانسہرہ میں اپنے ہی گھر میں ق۔ت۔ل کیا۔ انھوں نے بتایا کہ جب تفتیش کی گئی تو پتہ چلا کہ اسلام آباد پولیس کے سابق ایس پی حمزہ کے ساتھ رابطے میں تھے۔ڈی آئی جی اسلام آباد جواد طارق نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے سابق ایس پی کے مانسہرہ والے گھر سے حمزہ کی لا۔ش کو برآمد کر لیا۔ پولیس نے آلہ ق۔ت۔ل بھی برآمد کر لیا جبکہ سابق ایس پی اور ان کے ساتھی گرفتار ہیں۔اسلام آباد پولیس کے مطابق ابتدائی پوسٹ ۔ما۔رٹم رپورٹ میں حمزہ کے سر پر پیچھے سے گو۔لی ماری گئی تھی۔دوسری جانب حمزہ کے بھائی محمد وقار کا دعویٰ ہے کہ ان کے بھائی پر بے رحمانہ تش۔دد کیا گیا۔ ’میت کے سامنے کے دانت ٹوٹے ہوئے تھے اور چہرے پر شدید ضربوں کے نشانات تھے۔‘

See less

Post a Comment

0 Comments