ایک راز جو مہینوں چھپا رہا… چیچوکی ملیاں میں ہونے والے واقعے کی حقیقت سامنے آئی تو سب حیران رہ گئے کہ…

 


چیچوکی ملیاں کی عام سی عورت کا سنگین کرتوت : پہلا جرم ، پہلا ق۔تل مگر 7 ماہ کسی کو پتہ بھی نہ چلنے دیا ۔۔۔۔۔ پولیس کی انتھک محنت سے اندھے کیس کا ڈراپ سین ہو گیا ۔۔۔۔۔چیچوکی ملیاں شیخوپورہ کا ایک نواحی قصبہ ہے اس قصبے سے کچھ دور ایک گاؤں میں یہ خاتون اپنے شوہر اور بچے کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی ، اس کا شوہر ایک پیپر مل میں کام کرتا تھا صبح جاتا اور رات کو واپس گھر آتا ، اکیلی عورت اکیلا گھر شیطان نے داخل تو ہونا تھا ، کسی نہ کسی طرح ایک خوبرو مزدور ٹائپ نوجوان کے ساتھ اس عورت کارابطہ ہو گیا اس نے خاتون کو سم سمیت ایک موبائل دے دیا چوری چھپے باتیں ہونے لگیں اور جلد ملاقاتیں بھی ہونے لگیں ، یہ سلسلہ چلتا رہتا مگر ایک رکاوٹ آگئی ، خاتون کے شوہر کے ایک کزن کو ایک اجنبی کی اس گھر میں ملاقاتوں کا علم ہو گیا اور ایک دن اس نے دونوں کو گھر میں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ، مگر اس نے خاتون کو وارننگ دی کہ باز آجاؤ ورنہ تمہارے شوہر کو بتا دونگا ، یہ جملہ اس خوفناک جرم کی بنیاد بنا جو بعد میں وقوع پذیر ہوا ۔ خاتون نے باز کیا آنا تھا موبائل کے ذریعے اپنے عاشق کے ساتھ رابطے میں رہی ، ملاقاتیں تو اب ممکن نہ رہیں چنانچہ خاتون کے دیور کو راستے سے ہٹانے کے منصوبے بننے لگے ۔ خاتون کا آشنا اسے منع کرتا مگر وہ اصرار کرتی رہی منت سماجت اور پیار و ناراضگی تک ہر طریقہ استعمال کرکے آخر آشنا کو راضی کرلیا ، وقوعہ کے روز ملزمہ نے اپنے آشنا کو بلا کر گھر میں چھپا لیا اور پھر بچے کے ذریعے کسی بہانے دیور کو گھر بلوایا جب وہ بدقسمت شخص گھر آیا تو خاتون نے اپنے آشنا کے ساتھ ملکر اس شخص یعنی اپنے دیور اور شوہر کے کزن کو دوپٹے کا پھندہ ڈالکر موت کے گھاٹ اتار دیا ، پھر اسکی لا۔ش ایک بوری میں بند کی اور گدھا گاڑی پر کافی سارہ چارہ لادکر لا۔ش اسکے نیچے چھپائی اور چیچوکی ملیاں کے قریب ایک بڑی نہر میں لے جاکر پھینک دیا ۔۔۔۔ بظاہر اس سچی کہانی کا ایک حصہ تو یہاں ختم ہو گیا مگر دوسرا حصہ یہاں سے شروع ہوتا ہے ۔۔۔ جب ملزمہ کے شوہر کا کزن لاپتہ ہوا تو اسکی تلاش شروع ہوئی ، رشتہ داروں میں ، یاروں دوستوں سے ، لاہور سمیت نواحی شہروں میں ہر ممکنہ جگہ پتہ کیا گیا لیکن نوجوان کا کوئی سراغ نہ ملا ، پولیس نے گمشدگی کی رپورٹ درج کر لی اور تلاش جاری رہی لیکن خاتون پر کسی کا شک نہیں گیا ۔۔۔ یون دن ہفتوں اور پھر مہینوں میں بدل گئے ، خاتون پیٹ کی پکی نکلی اور آشنا نے بھی کسی کے سامنے ذکر نہ کیا اور ملاقاتیں زور شور سے جاری رہٰیں کیونکہ اب رکاوٹ کوئی نہ تھی ، اس دوران کئی ہفتوں بعد مق۔تول کی لا۔ش ایک دوردراز شہر میں نہر سے نکالی گئی اور لاوارث قرار دے کر دفن کردی گئی کیونکہ نہ تو مق۔تول کی جیب سے کچھ ملا اور نہ ہی اسکی فنگر پرنٹس سے شناخت ممکن ہو سکی ، مگر ایک کہاوت مشہور ہے کہ ق۔تل چھپتا نہیں ہے ۔۔۔ جب کئی ماہ بعد بھی لاپتہ شخص کا کچھ پتہ نہ چلا تو لواحقین نے ایک بار پھر کوشش کی پولیس دفاتر کے سامنے دھرنے دیے اور جب پولیس نے مق۔تول کا کال ڈیٹا ریکارڈ نکلوایا اور اسکے موبائل کو لیب میں بھیجا تو خاتون کے ساتھ اسکی کچھ وائس چیٹس مل گئیں ۔ ان وائس چیٹس میں مق۔تول دیور خاتون کو اسکے تعلقات سے شوہر کو آگاہ کرنے کی دھم۔کی دے رہا تھا جبکہ خاتون اسکی منت سماجت کررہی تھی ۔۔۔ انہی وائس ریکارڈنگ کی بنیادپر واقعہ کے کئی ماہ بعد پولیس نے خاتون کو گرفتار کیا اور پھر خاتون کے انکشافات پر اسکے آشنا کو بھی حراست میں لے لیا ۔۔۔۔ اگرچہ دونوں نے اعتراف جرم کر لیا اور دونوں کو چالان کرکے جیل بھیج دیا گیا لیکن تھانے میں تفتیش کے دوران خاتون اور آشنا دونوں سارا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کرتے رہے مگر تفتیشی افسر نے کئی روز کی تفتیش کے بعد آخر کار اصل کہانی ڈھونڈ نکالی ۔۔۔۔۔ 


Post a Comment

0 Comments