اصلی اور نسلی لوگ ایسے ہوتے ہیں : صوبہ پنجاب کے ایک گاؤں کا سچا واقعہ ۔۔۔ یہ نوجوان 7 سال پردیس میں کمائی کرکے واپس آیا تو دیکھا انکی آبائی حویلی کے درمیان اب ایک دیوار بن چکی تھی ، یعنی اسکے پیارے چاچو کا گھر علیحدہ ہو چکا تھا ، نوجوان نے خاموشی سے اس دیوار کی وجہ جاننے کی کوشش کی ، پہلے اپنے چچا سے پوچھا تو انہوں نے بتایا یہ دیوار میری مرضی یا خواہش سے نہیں بنی ، آپ کی والدہ نے ضد کرکے بنوائی ہے ۔ پھر اس نوجوان نے اپنی والدہ سے بات کی ، باتوں سے اسے یقین ہو گیا کہ والدہ کو اب اسکی غیر ملکی کمائی اور خوشحالی کا بہت ناز ہے ۔۔۔۔ معاملے کی تسلی کرکے ایک روز دوپہر کے وقت اس نوجوان نے ٹریکٹر سٹارٹ کیا اور حویلی یعنی دو بھائیوں کو علیحدہ کرنے والی دیوار گرا دی ، اس نوجوان نے پھر ٹریکٹر اس دیوار والی جگہ پر کھڑا کیا اور کہا ، چاچو: یہ ٹریکٹر آپ کا اور ہمارا سانجھا ہے جب کام کے لیے لے جانا ہو لے جائیں اور واپس اسی جگہ لا کر کھڑا کریں ، جب مجھےیا میرے والد کو ضرورت ہو گی ہم بھی ضرورت پوری کرکے یہیں کھڑا کریں گے ، جب آپ کا بیٹا بڑا ہو جائے گا اور میں اسے اپنے ساتھ باہر لے جاؤنگا اور وہ کمانا شروع کردے گا تو پھر چاہے آپ دیوار کھڑی کر لیجیے گا ، ابھی میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ میرا وہ چچا آنکھوں سے اوجھل ہو جو مجھے کندھوں پر بٹھا کر کھیتوں میں لے جاتا تھا اور ٹریکٹر پر ساتھ بٹھا کر ہل چلاتا تھا، میرے چچا کے بیٹے اور بیٹیوں کو میں اپنے سامنے دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔اگر کسی کو میرا یہ فیصلہ قبول نہیں تو پھر اب کا گیا میں دوبارہ اس دیوار والی حویلی میں کبھی واپس نہیں آؤنگا ، کہ جہاں رشتوں کی قدر نہ ہو وہ گھر گھر نہیں مکان ہوتا ہے اور مکان تو پردیس میں بہت ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
.png)
0 Comments