سفید داڑھی کے پیچھے چھپے ایک شیطان کا شرمناک کارنامہ

 


چکوال میں سنسنی خیز انکشاف: ڈکیتی کا مقدمہ قتل کا راز نکلا

چکوال کے ایک گاؤں میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے نے نظام انصاف اور پولیس تفتیش پر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ یہ معاملہ مارچ 2025 میں اس وقت شروع ہوا جب اسحاق نامی ایک مقامی زمیندار نے اپنے گھر پر 25 لاکھ روپے کی ڈکیتی کا مقدمہ درج کروایا۔ اس نے اپنے ڈیرے پر کام کرنے والے نوجوان عمران خان اور اس کے دو بھائیوں کو اس واردات میں نامزد کیا۔

مقامی طور پر بااثر سمجھے جانے والے زمیندار کی شکایت کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چند دنوں میں عمران خان کے دو بھائیوں کو گرفتار کر لیا اور ان سے تقریباً سات لاکھ روپے کی ریکوری بھی ظاہر کی گئی۔ تاہم عمران خان کا کوئی سراغ نہ مل سکا اور اسے فرار قرار دیا جاتا رہا۔

چند ماہ بعد صورتحال اس وقت بدل گئی جب گاؤں کے ایک تالاب میں انسانی اعضاء ملنے کی اطلاع ملی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر دو ہاتھ اور دو ٹانگیں برآمد کر کے تحقیقات شروع کیں۔

اسی دوران عمران خان کے ایک بھائی، جو ضمانت پر رہا ہو چکا تھا، نے اپنے لاپتہ بھائی کی تلاش شروع کی۔ اس نے تالاب سے ملنے والے اعضاء کا ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کی درخواست دی۔ بعد ازاں رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ یہ باقیات دراصل عمران خان کی تھیں۔

اس پیش رفت کے بعد پولیس نے مقدمے کا رخ تبدیل کرتے ہوئے زمیندار اسحاق کو حراست میں لیا۔ تفتیش کے دوران اس نے اعتراف کیا کہ ڈکیتی کی واردات دراصل ایک ڈرامہ تھی اور اس نے عمران خان کو قتل کر کے اس کی لاش تالاب میں پھینک دی تھی۔ اس کے مطابق اس کی عمران خان سے ذاتی رنجش تھی کیونکہ اس نے ایک پرانے قتل کیس میں جھوٹی گواہی دینے سے انکار کیا تھا۔

بعد ازاں مزید حیران کن صورتحال اس وقت سامنے آئی جب مقتول کے بھائی نے باقیات آبائی گاؤں منتقل کرنے کے لیے قبر کشائی کی درخواست دی۔ قبر کھولی گئی تو معلوم ہوا کہ وہاں کفن کے علاوہ کچھ بھی موجود نہیں تھا۔

کچھ عرصے بعد ملزم اسحاق عدالت سے ضمانت پر رہا ہو گیا، جس پر مقامی سطح پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف ایک نوجوان کی جان گئی، اس کے بھائیوں کو جیل کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دوسری طرف مرکزی ملزم کا ضمانت پر باہر آ جانا انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔

یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مقدمات کی شفاف اور مکمل تحقیقات کس قدر ضروری ہیں تاکہ کسی بے گناہ کو نقصان نہ پہنچے اور اصل ملزمان قانون کے مطابق سزا پا سکیں۔



Post a Comment

0 Comments