ڈھاکا: بنگلا دیش میں اردو سنیما سے وابستہ معروف اداکار اور ڈانس ڈائریکٹر الیاس جاوید 82 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق الیاس جاوید کا انتقال بدھ کی صبح ساڑھے گیارہ بجے ڈھاکا کے ایک اسپتال میں ہوا۔ جہاں وہ کینسر کے طویل علاج کے بعد زیر علاج تھے۔ ان کی اہلیہ اور معروف اداکارہ ڈولی چودھری نے ان کی وفات کی تصدیق کی۔
ڈولی چودھری کے مطابق الیاس جاوید کی طبیعت بدھ کی صبح اچانک خراب ہوگئی تھی۔ جس کی وجہ سے انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ وہ گزشتہ چند ماہ سے گھر پر ہی علاج کروا رہے تھے۔ اور ڈاکٹروں و نرسوں کی ٹیم ان کی دیکھ بھال پر مامور تھی۔
الیاس جاوید اردو فلمی دنیا کا ایک نمایاں نام تھے۔ اور مشرقی پاکستان کے سنہری دور میں بنگلا دیش میں اردو فلموں کے مقبول چہروں میں شمار ہوتے تھے۔
انہوں نے 1960 کی دہائی میں بطور ڈانس ڈائریکٹر اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ اور اپنی پہلی اسائنمنٹ میں فلم ’ملن‘ کے لیے کوریوگرافی کی۔ جس کی ہدایت کاری کائزر پاشا نے کی تھی۔
بعد ازاں انہوں نے اداکاری کے میدان میں قدم رکھا اور 1964 میں اردو فلم ’نئی زندگی‘ سے بطور اداکار اپنی شناخت بنائی۔ اپنے طویل فلمی سفر کے دوران وہ متعدد کامیاب اور تنقیدی طور پر سراہی جانے والی فلموں میں نظر آئے، جن میں ’ملکہ بانو‘، ’ایک دن آگے‘، ’شہزادی‘، ’نشان‘، ’راجکماری چندربان‘، ’کاجول ریکھا‘ اور ’صاحب بی بی‘ شامل ہیں۔
الیاس جاوید نے بنگالی فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اور بنگلا دیش کی فلمی صنعت میں ایک اہم ثقافتی کردار ادا کیا۔
.jpg)

0 Comments