واہ بھئی واہ سلام ہے تمہاری سوچ پر ۔۔۔!!! اپنی بچپن کی محبوبہ کے شوہر کو ق۔ت۔ل کرنے والے ملزم کا ایسا بیان کہ خاتون اینکر بھی حیران رہ گئی ۔۔۔۔۔۔ تصویر میں نظر آنے والا ملزم 12 سال کی عمر سے ایک لڑکی کے عشق میں گرفتار تھا عشق بھی دو طرفہ تھا دونوں نے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھا رکھی تھیں لیکن غربت شادی کی راہ میں رکاوٹ تھی ۔ مرحوم پولیس کانسٹیبل کا یہ بیٹا پھر اپنے والد سے ملنے والی تھوڑی سے زمین بیچ کر 18 سالہ کی عمر میں سعودی عرب چلا گیا کہ امیر ہو کر واپس آئے گا اور اپنی محبوبہ سے شادی کرے گا ، یہ الیکٹریشن کے طور پر وہاں 3 سال کام کرتا رہا، محبوبہ سے بھی رابطہ تھا اور یہ کمائی بھی اچھی کررہا تھا ایک روز اسکا محبوبہ سے رابطہ منقطع ہو گیا ۔ اسکے خیال میں اگر خیریت ہوتی تو اسکی محبوبہ اس سے ایک دو چار دن بعد رابطہ ضرور کرتی مگر جب 10 دن بھی رابطہ نہ ہوا تو اس نے کفیل سے بات کرکے وطن واپسی کی راہ لی ، یہاں اپنے گاؤں پہنچا تو پتہ چلا معشوقہ کی شادی ہو چکی ہے ۔محبوبہ چونکہ رشتہ دار تھی اس لیے رابطہ کرنے اور چھپ کر ملنے میں مسئلہ نہ بنا ، ملتے ہی محبوبہ نے مجبوری بتائی کہ میری شادی زبردستی ہوئی ہے میں اب بھی تمہاری ہوں لیکن تم میرا ایک کام کرو ، میں لڑ کر میکے چلی جاتی ہوں تم میرے شوہر کا بندوبست کرو ۔ کیونکہ یہ مجھے طلاق نہیں دے رہا ۔۔ اس نوجوان نے پہلے تو منع کیا اور ق۔ت۔ل جیسے گناہ سے اپنی محبوبہ کو باز رہنے کو کہا لیکن وہ ناراض ہو گئی مگر میکے بیٹھ گئی ادھر یہ نوجوان بھی پھر ویزہ لگوا کر بحرین چلا گیا ، 6 ماہ گزارے لیکن محبوبہ نے پھر رابطہ شروع کردیا اور اسے محبت کی قسمیں دے کر واپس پاکستان بلایا اور پھر ایک روز اس نوجوان نے اپنے ایک دوست کے ساتھ ملکر محبوبہ کے شوہر کو ق۔ت۔ل کردیا ۔۔ اندھے ق۔ت۔ل کیس میں جب مق۔تول کی بیوی کا کال ریکارڈ چیک کیا گیا تو اسکے بار بار رابطے ملزم کے ساتھ سامنے آگئے ، ملزم کو گرفتار کیا گیا ۔ اس نے اعتراف کرکے اپنا ساتھی بھی گرفتار کروا دیا اس موقع پر خاتون اینکر نے ملزم کو انٹرویو کیا اور ساری کہانی سن کر پوچھا کہ اگر تمہاری مق۔تول کے لواحقین سے صلح ہو گئی اور تم رہا ہو گئے تو کیا اس لڑکی سے شادی کرو گے ۔۔۔؟ ملزم بولا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا ۔ یہ تو فسادی عورت ہے اس نے اگر اپنا حق نکاحی شوہر مروا دیا ہے تو کل کو کسی اور کے ساتھ تعلق بنا کر مجھے بھی ق۔ت۔ل کروا سکتی ہے ۔۔ اینکر حیران رہ گئی کہ ملزم کل تک اخلاقیات سے عاری تھا اور محبت میں اندھا تھا مگر اب گرفتار ہو کر کیسے اخلاقیات اور عقلمندی کے ثبوت پیش کررہا ہے ۔۔۔۔۔ سیانوں نے سچ ہی کہا ہے زن زر اور زمین کی ہوس انسان سے حواس چھین لیتی ہے ۔۔۔۔
0 Comments