ایک بے شرم کو بچانے کے لیے کئی بے شرم میدان میں آگئے ، چکوال

 






ایک بے شرم کو بچانے کے لیے کئی بے شرم میدان میں آگئے ، چکوال تلہ گنگ اور راولپنڈی کے حلقوں میں ایک اور ہرا۔سانی کیس

 کی بازگشت ۔۔۔ چکوال کے ایک سکول میں لڑکیوں کے امتحانی مرکز میں نگران لڑکیوں کے گال چھوتا رہا انکے جسم کے حصوں کو ہاتھ لگاتا رہا ، لڑکیوں نے اپنی پرنسپل سے شکایت کی انکوائری ہوئی تو نواں کٹا کھل گیا ، قصہ کچھ یوں ہے کہ کچھ روز قبل چکوال کے ایک گرلز سکول میں ہونیوالے بورڈ کے پریکٹیکل امتحانات کے لیے تلہ گنگ کے ایک ٹیچر کو ممتحن یا نگران مقررکردیا گیا اس نگران صاحب نے دوران پیپر متعدد لڑکیوں کو ہرا۔سانی کا نشانہ بنایا ان کے قریب سے گزرتا تو جسم مس کرکے گزرتا پیپر کے دوران چیکنگ کے بہانے بچیوں کے جسموں کو ہاتھ لگاتا اور انہیں گالوں پر چھوتا رہا کچھ لڑکیوں نے اسے منع کیا تو اس نے نمبر کم دینے کی د۔ھمکی دی ۔۔ پیپر کے بعد کچھ لڑکیاں تو شرم کے مارے چپ کرگئیں لیکن دو لڑکیوں نے پرنسپل کو تحریری شکایت کی ۔ پرنسپل نے خاموشی سے لڑکیوں سے معاملہ دریافت کیا اور یقین ہونے کے بعد متعلقہ محکمہ تعلیم کو انکوائری کی تحریری درخواست دی ، حیران کن امر یہ ہے کہ جن سرکاری افسران نے اس درخواست پر انکوائری کی انہوں نے بیان کیا کہ ایسی کوئی بات نہیں ، کمرہ امتحان میں جگہ کم ہونے کی وجہ سے اگر کسی لڑکی کے جسم سے نگران کا جسم ٹچ ہو گیا تو یہ انکی غلطی نہیں ، یہ کہ لڑکیوں کو بیٹیاں سمجھ کر پیار دیا ہو گا اور ستم ظریفی یہ کہ اس امتحانی مرکز میں خواتین ٹیچرز کو اس لیے نہیں بھیجا گیا کہ وہ گرمیوں میں ڈیوٹی نہیں کرنا چاہتیں ۔۔۔ مختصرا یہ کہ معاملہ کو دبانے کی کوشش کی گئی ، اور اس معاملے کو دبانے کی کوشش کرنے والے چکوال سے لے کر راولپنڈی تک تینوں افسران کا تعلق تلہ گنگ سے ہے اور ان میں سے ایک یا دو کی شہرت ایک بھونڈ کے علاوہ کچھ خاص نہیں ۔۔۔ اس کیس میں ایک امید افزا بات یہ ہے کہ معاملہ اب ڈپٹی کمشنر چکوال سارہ حیات گوندل کے نوٹس میں آچکا ہے اس سے قبل انہیں اس معاملہ سے مکمل بے خبر رکھا گیا ۔ سارہ حیات گوندل نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ اس سارے معاملے کا از سر نو جائزہ لے کر انکوائری کروائیں گی لڑکیوں اور انکے والدین سے ملاقات کریں گی اور جس ٹیچر پر الزام ہے اگر وہ ثابت ہوا تو اسے سزا دلوا کررہیں گی ۔

Post a Comment

0 Comments