نیدرلینڈز کے سابق رکنِ پارلیمنٹ جورام وان کلیویرن کا یہ اعتراف دلوں کو جھنجھوڑ دینے والا ہے کہ وہ اسلام سے شدید نفرت کرتے تھے اور اس کے خلاف ایک کتاب لکھنا چاہتے تھے، لیکن تحقیق کے دوران سچائی کے نور نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا اور وہ بالاآخر مسلمان ہو گئے۔
یہ کہانی اس بات کی زندہ مثال ہے کہ ہدایت کے فیصلے عرشِ الٰہی پر ہوتے ہیں، جہاں ایک انسان دل میں بغض اور نفرت کی آگ لے کر اسلام کی روشنی کو بجھانے نکلا تھا مگر رحمن و رحیم کا رحم و کرم اس کا منتظر تھا؛ وہ قرآن کی آیات میں خامیاں ڈھونڈنے نکلا مگر اللہ کے پاک کلام کی تاثیر، سحر اور سچائی نے اس کے سخت دل کو موم کر دیا، یوں نفرت کی وہ کتاب جو اسلام کے خلاف لکھی جانی تھی وہی ہدایت کا رستہ بن کر ایک بھٹکی ہوئی روح کو اس کے حقیقی خالق و مالک سے ملا گئی، کیونکہ یہ دل بدل دینے والے رب کی وہ غیبی طاقت ہے جو جب چاہے کفر کے اندھیروں سے ایمان کا نور نچوڑ لے، اور بے شک ہدایت وہی دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنے گھر کا راستہ دکھا دیتا ہے۔
Disclaimer: The views expressed in this post belong solely to the quoted individual regarding his personal journey and do not reflect any official stance.
یہ کہانی اس بات کی زندہ مثال ہے کہ ہدایت کے فیصلے عرشِ الٰہی پر ہوتے ہیں، جہاں ایک انسان دل میں بغض اور نفرت کی آگ لے کر اسلام کی روشنی کو بجھانے نکلا تھا مگر رحمن و رحیم کا رحم و کرم اس کا منتظر تھا؛ وہ قرآن کی آیات میں خامیاں ڈھونڈنے نکلا مگر اللہ کے پاک کلام کی تاثیر، سحر اور سچائی نے اس کے سخت دل کو موم کر دیا، یوں نفرت کی وہ کتاب جو اسلام کے خلاف لکھی جانی تھی وہی ہدایت کا رستہ بن کر ایک بھٹکی ہوئی روح کو اس کے حقیقی خالق و مالک سے ملا گئی، کیونکہ یہ دل بدل دینے والے رب کی وہ غیبی طاقت ہے جو جب چاہے کفر کے اندھیروں سے ایمان کا نور نچوڑ لے، اور بے شک ہدایت وہی دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنے گھر کا راستہ دکھا دیتا ہے۔
Disclaimer: The views expressed in this post belong solely to the quoted individual regarding his personal journey and do not reflect any official stance.

0 Comments