جس نے میرا بستا گھر اجاڑا ، کبھی سکون سے نہیں بیٹھے گی


جس نے میرا بستا گھر اجاڑا ، کبھی سکون سے نہیں بیٹھے گی ۔۔۔۔۔اپنے بیٹوں کی ستائی قصور کی بے بس ماں کی اصل کہانی سامنے آگئی ۔۔۔۔ یہ ہے وہ ماں جائیداد کے لیے جسکے دو بیٹے بیویوں کی باتوں میں آکر اسکے خلاف ہو گئے ہیں ۔۔۔ ایک دکان کا جھگڑا ہے جو عمران الٰہی اپنی بیٹیوں کے نام کروانا چاہتا ہے ، لیکن اپنی سرکاری ملازمت اختیارات اور اثر رسوخ کے بل پر زبردستی سب کچھ کرنا چاہتا ہے ، اس دکان کے لیے ماں کو گا۔لیان دیتا ہے د۔ھمکیاں دیتا ہے ، دو بار اپنے سگے بھائیوں کو مار پیٹ کا نشانہ بنا چکا ہے ، والدہ کا موقف ہے کہ دکان اکیلے اسکا حصہ نہیں سب بیٹوں اور انکی اولادوں کا مشترکہ حق ہے ۔ اگر عمران الٰہی آئے اور آرام سے بیٹھ کر بات کرے میں سب بیٹوں میں تقسیم کردیتی مگر بیوی کی باتوں میں آکر عمران الٰہی نے دنیا میں میرا تماشا بنا دیا ۔ اس پر دنیا بھی لعنت بھیج رہی ہے ، میں بھی اسے کوس رہی ہوں اور اللہ بھی اسے پوچھے گا ۔۔۔ اسکے پاس اللہ کا دیا یا حلال حرام کا کمایا سب کچھ ہے مگر لالچ نے ان میاں بیوی کو اتنا اندھا کردیا ہے کہ سگی ماں کو دشمن سمجھ لیا وہ وہ گا۔لی دی کہ بیان سے باہر ہے ، بھائیوں کو فون کرکے وہ کچھ کہتا ہے کہ مجھے شرم آتی ہے میں نے ایسے بیٹے کو جنم دیا ۔۔۔ اللہ کسی ماں کو یہ حالات نہ دکھائے ، بہت کچھ دیکھ لیا اب تو اللہ اٹھا لے یہی کافی ہے لیکن دل سے کہہ رہی ہوں میرا اور میرے دوسرے بیٹوں کا جو حشر عمران الٰہی نے کیا اب وہ مجھ مری ہوئی کا آخری دیدار کرنے کا حقدار نہیں اور نہ وہ میرے جنازے کو کندھا دے ورنہ میری روح کو شدید تکلیف پہنچے گی ۔۔۔۔۔ قصور کی بااثر سماجی اور مصالحتی شخصیات سے استدعا ہے کہ اس ماں کے درد کو سمجھیں اور اسکے بیٹوں کو ایک جگہ اکٹھا کرکے ماں کے سامنے صلح کروا دیں ۔۔ اللہ کریم ضرور انہیں اس نیکی کا اجر دے گا ۔۔۔


 

Post a Comment

0 Comments