یہ 15 سالہ لڑکی اسلام آباد میں ایک گھر پر کام کرتی تھی۔ اس کا تعلق مظفرگڑھ سے ہے۔ آج سے کوئی 1 سال قبل اسے 3 لڑکے جن۔سی درند۔گی کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔ اس دوران لڑکی کا حمل گزرتا ہے اور وہ پولیس کو بتا دیتی ہے۔
جب لڑکی کا حمل ہوتا ہے اس وقت لڑکے بیرون ملک فرار ہوجاتے ہیں۔ متاثرہ لڑکی کے 13 سالہ بھائی کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔ جب حمل کو 2 ماہ گزرتے ہیں تو یہ متاثرہ لڑکی اسلام آباد پریس کلب کے باہر دھرنا دے دیتی ہے۔ متاثرہ لڑکی کی والدہ اپنے 10 سالہ بیٹے کو 80 ہزار کے عوض گروی رکھ دیتی ہیں تاکہ متاثرہ لڑکی کی ڈلیوری کروائی جا سکے۔
پولیس مقدمے کے بعد 3 ملزمان کے خلاف متاثرہ لڑکی نے بیان دیا تھا۔ ایک ملزم کے ساتھ صلح ہوگئی تھی جبکہ ایک ملزم کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کر کے جوڈیشل کر دیا۔ ایک ملزم بیرون ملک فرار ہے جسے اشتہاری قرار دے کر ریڈ وارنٹ بھی جاری کیے جا چکے ہیں اور انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔
اب تک یہ قانونی معاملات تھے جو چل رہے تھے لیکن اس سب کے بیچ ایک انسانی پہلو بھی تھا۔ متاثرہ لڑکی کا بیٹا پیدا ہوا تھا جس کا نام سبحان رکھا گیا۔ سبحان اب 2 ماہ کا ہے۔ 2 ماہ کے بچے کو پانی پلا کر پالا جا رہا تھا جہاں کی میڈیکلی درست طریقہ نہیں ہے۔ ان کے پاس خود کھانے کے پیسے نہیں تھے بچے کو دودھ دینا بھی دشوار ہوگیا تھا۔
اس سب کے دوران ایس پی سٹی ڈاکٹر آیاز حسین ان کے پاس پہنچے جنہوں نے ان کو 2 لاکھ روپے نقد دیے جبکہ 6 ماہ تک کرائے پر مکان بھی دیا۔ اس کے علاوہ بچے کے لیے کپڑے دودھ وغیرہ بھی خرید کر دیے۔ شاید یہ بطور پولیس افسر ڈاکٹر آیاز حسین کی ذمہ داری نہیں تھی لیکن انہوں نے بطور انسان یہ سب محسوس کیا تو ان کی مدد کی۔
معاشرے میں ہر ذہنیت کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ امیر زادوں کے گھروں کے اندر کمزور لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے اس کا کسی کو علم نہیں ہوتا۔۔۔ یہ ناسو۔ر ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔۔۔ پولیس کی جانب سے متاثرہ لڑکی کی مدد کرنا خوش آئند ہے لیکن اب پولیس مرکزی ملزم کو گرفتار کر کے اسے سخت سے سخت سزا دے اور اس کے خلاف ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا جائے۔۔
جب لڑکی کا حمل ہوتا ہے اس وقت لڑکے بیرون ملک فرار ہوجاتے ہیں۔ متاثرہ لڑکی کے 13 سالہ بھائی کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔ جب حمل کو 2 ماہ گزرتے ہیں تو یہ متاثرہ لڑکی اسلام آباد پریس کلب کے باہر دھرنا دے دیتی ہے۔ متاثرہ لڑکی کی والدہ اپنے 10 سالہ بیٹے کو 80 ہزار کے عوض گروی رکھ دیتی ہیں تاکہ متاثرہ لڑکی کی ڈلیوری کروائی جا سکے۔
پولیس مقدمے کے بعد 3 ملزمان کے خلاف متاثرہ لڑکی نے بیان دیا تھا۔ ایک ملزم کے ساتھ صلح ہوگئی تھی جبکہ ایک ملزم کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کر کے جوڈیشل کر دیا۔ ایک ملزم بیرون ملک فرار ہے جسے اشتہاری قرار دے کر ریڈ وارنٹ بھی جاری کیے جا چکے ہیں اور انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔
اب تک یہ قانونی معاملات تھے جو چل رہے تھے لیکن اس سب کے بیچ ایک انسانی پہلو بھی تھا۔ متاثرہ لڑکی کا بیٹا پیدا ہوا تھا جس کا نام سبحان رکھا گیا۔ سبحان اب 2 ماہ کا ہے۔ 2 ماہ کے بچے کو پانی پلا کر پالا جا رہا تھا جہاں کی میڈیکلی درست طریقہ نہیں ہے۔ ان کے پاس خود کھانے کے پیسے نہیں تھے بچے کو دودھ دینا بھی دشوار ہوگیا تھا۔
اس سب کے دوران ایس پی سٹی ڈاکٹر آیاز حسین ان کے پاس پہنچے جنہوں نے ان کو 2 لاکھ روپے نقد دیے جبکہ 6 ماہ تک کرائے پر مکان بھی دیا۔ اس کے علاوہ بچے کے لیے کپڑے دودھ وغیرہ بھی خرید کر دیے۔ شاید یہ بطور پولیس افسر ڈاکٹر آیاز حسین کی ذمہ داری نہیں تھی لیکن انہوں نے بطور انسان یہ سب محسوس کیا تو ان کی مدد کی۔
معاشرے میں ہر ذہنیت کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ امیر زادوں کے گھروں کے اندر کمزور لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے اس کا کسی کو علم نہیں ہوتا۔۔۔ یہ ناسو۔ر ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔۔۔ پولیس کی جانب سے متاثرہ لڑکی کی مدد کرنا خوش آئند ہے لیکن اب پولیس مرکزی ملزم کو گرفتار کر کے اسے سخت سے سخت سزا دے اور اس کے خلاف ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا جائے۔۔

0 Comments