افسوسناک مگر ناقابل یقین سچی کہانی : اس لڑکی کو شیخوپورہ پولیس کی ایک سپیشل ٹیم نے سندھ جاکر ایک کوٹھے سے بازیاب کروایا تھا ، کہانی کا پس منظر یہ ہے کہ 2023 میں یہ حسین و جمیل لڑکی ایک خوبرو نوجوان کی محبت میں گرفتار ہو گئی لڑکی کو لگتا کہ جو سانسیں یہ لیتی ہے وہ بھی اسکے محبوب کی امانت ہیں چنانچہ ایک روز اپنے محبوب کے کہنے پر یہ اسکے ساتھ لاہور چلی گئی ، لڑکی نے نجانے کیا سوچ کر ماں باپ کی دہلیز کو عبور کیا ہو گا مگر لڑکا اسے لاہور تو لے گیا لیکن چند دن استعمال کرنے کے بعد داتا دربار کے قریب لڑکی کو ایک مرد عورت کے سپرد کردیا کہ انکے ساتھ چلی جاو ایک دو دن میں تمہارے پاس پہنچ جاؤنگا پھر ساری زندگی ایک ساتھ گزاریں گے ، لڑکی اس مرد عورت کے ساتھ لاہور سے چلی تو یہ سندھ کے ایک شہر آن رکے وہاں اگلے ہی دن لڑکی کو تیار ہونے کا کہا گیا اوراسکی بچی کھچی عزت پھر ہر روز فروخت ہونے لگی اسے کمائی کا ذریعہ بنا دیا گیا ۔ چند دن کے اندر ہی لڑکی عشق محبت بھول کر کھلونا بن کررہ گئی ۔ پھر یہ ایک سال تک ہر روز کئی بار لٹی اس ایک سال میں اسکے مالک بدلتے رہے ہر تین ماہ بعد اسکا سودا کردیا جاتا وہ سندھ کے مختلف شہرون میں لٹتی رہی آخر کار غریب والدین کی شکایت پر پولیس نے جو مشن شروع کررکھا تھا وہ پورا ہوا اور لڑکی کو مختلف طریقوں سے سراغ لگا کر ایک کوٹھے سے بازیاب کروا لیا گیا ۔۔۔۔ یہ وہ کہانی ہے جو اس لڑکی کی زبانی پولیس اور میڈیا کو پتہ چلی مگر اپنے انٹرویو میں لڑکی نے کچھ باتیں ایسی بتائیں جن سے لگتا ہے معاملہ کچھ اور تھا ۔۔مثلا لڑکی نے بتایا کہ جس عورت نے اسے خریدا تھا اسکے پاس ایک ہزار لڑکیاں تھیں یہ ایک ہزار لڑکیاں چھوٹے سے مکان کے دو کمروں میں رہتی تھیں ۔ اس لڑکی سمیت سب لڑکیوں کو بہت کم کھانا ملتا اور پینے کا پانی بھی دن میں صرف ایک یا دوبار دیا جاتا تھا ، کھانے اور پانی کی بات تو مانی جا سکتی ہے لیکن دو کمروں میں ایک ہزار لڑکیوں کی موجودگی کا دعویٰ ظاہر کرتا ہے کہ بات اتنی تھی نہیں جو گھڑ کر بیان کی جارہی ہے ۔۔۔یہ لڑکی ایک مثال ہے ایک نشان عبرت ہے ان لڑکیوں کے لیے جو چند دن کی شناسائی کو والدین کی برسوں کی شفقت محبت پر ترجیح دے کر گھر سے نکل پڑتی ہیں اور اپنا سب کچھ لٹا کر کہیں کی بھی نہیں رہتیں ۔ ایسی لڑکیاں اول تو دردناک انجام سے دوچار ہوتی ہیں اور اگر کسی طرح گھر واپس پہنچ بھی جائیں تو انکی باقی ماندہ زندگی بے اعتباری اور شک بھری نظروں کا سامنا کرتے گزرجاتی ہے ۔۔۔۔

0 Comments