ارسلان کی والدہ اور بھائی نے ایک اور کہانی چھیڑ دی

 






اگر ہمارا ارسلان واقعی درندہ تھا تو اسکے ساتھ بہت اچھا ہوا مگر ہمیں ثبوت دیا جائے ۔۔ اگر ارسلان کے گناہ گار ہونے کا کوئی ثبوت نہیں تو دکان مالک اور اسکے بیٹے و بھتیجے کے بے گناہ ہونے کا کیا ثبوت ہے ۔ اگر ارسلان کو محض اندازے اور شک پر پار کیا جاسکتا ہے تو دکان مالک اور اسکے بیٹے کا انکاؤنٹر کیوں نہیں ہو رہا ؟ ارسلان چار سال سے دکان پر کام کررہا تھا ، آج تک اسکی کوئی شکایت نہیں آئی ، اگر وہ ان کاموں والا ہوتا تو کیا 10 ہزار تنخواہ پر سارا دن ذلیل ہوتا ،ارسلان کی والدہ اور بھائی نے ایک اور کہانی چھیڑ دی ۔۔۔۔ارسلان کی والدہ اور بھائی کے بقول ۔۔۔ ارسلان نے اگر کچھ کیا بھی ہے تو دکان مالک نے بچی کے والد کے ساتھ اپنی دشمنی نکالی اور ہمارے بیٹے کو کوئی لالچ یا یقین دہانی دے کر اس سے ظلم کروایا ۔ پورا سرگودہا جانتا ہے کہ دکان مالک اور بچی کے والد کی مخالفت تھی دکان مالک نے بچی کے والد کو کہا تھا کہ تمہیں ایسا مزہ چکھاؤں گا کہ ساری زندگی یاد رکھو گے ۔۔۔ ہم اپنا نصیب سمجھ کر چپ کر جائیں گے لیکن اصل ذمہ دار دکان دار اور اسکا بیٹا ہیں ۔ جو کچھ ہوا انکی مرضی سے ہوا ۔ ہمارا بیٹا مارا گیا وہ گناہ گار تھا یا بے گناہ یہ معاملہ اللہ کے سپرد مگر پولیس والے اور عدالتیں اتنا تو کریں کہ بچی کو ظلم کا نشانہ بنانے کی سازش کے سب کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچائیں ۔۔۔ ورنہ یہ انصاف نہیں ہو گا ظلم پر ظلم ہو گا ۔۔۔


Post a Comment

0 Comments