سیالکوٹ میں پیش آیا افسوسناک واقعہ باپ روزی کمانے گیا، پیچھے گھر میں ق یام ت برپا ہو گئی

 






ہوس نے ماں کو ڈائن بنا دیا :اپنے ہی بچوں کو کھا کے بین ڈالنے والی چڑیل 12 گھنٹوں میں بے نقاب : سیالکوٹ کے نواح میں چند ماہ قبل پیش آیا افسوسناک واقعہ : تصویر میں نظر آنیوالی عورت اپنے شوہر اور دو بچوں کے ہمراہ ایک ڈیرے پر رہائش پذیر تھی ، شوہر صبح کام پر چلا جاتا ، یہ سارا دن بچوں کے ساتھ اکیلی اپنے گھر میں رہتی اسی دوران زمیندار کے بیٹے کے ساتھ اس عورت کے تعلقات بن گئے ، یہ سلسلہ کافی عرصہ چلا ایک روز 6 سالہ بیٹی نے ماں کو اپنے آشنا کے ساتھ غیر حالت میں دیکھ لیا تو اس نے کہا میں ابو کو بتاؤنگی ۔۔۔ عورت نے بچی کو پیار محبت اور پیسے و چیزوں کا لالچ دے کر چپ کرا دیا ، مگر اب یہ بچی ان کی راہ میں رکاوٹ تھی ، جب بھی اسکا عاشق گھر آتا بچی ادھر ادھر ہونے کا نام نہ لیتی ، یہ وہ وقت تھا کہ عورت اپنی غلطی پر نادم ہو کر توبہ تائب ہوتی مگر اس ہوس اور بے چارگی نے اسے ڈائن بنا دیا ، اب وہ اپنے عاشق کے ساتھ بچی کو راستے سے ہٹانے کے منصوبے بنانے لگی ، ایک روز وہ اپنی بیٹی کو نزدیکی قبرستان لے گئی جہاں کسی کے آنے جانے کا کوئی امکان نہ تھا ، وہاں اسکا عاشق موجود تھا دونوں نے ملکر بچی کو گرا لیا اور اینٹوں کے و۔ار سے معصوم کلی کو کچل ڈالا ، اتفاق سے 3 سالہ بیٹا بھی ماں اور بہن کے پیچھے قبرستان آگیا ، اس نے سارا منظر دیکھا تو چیخ وپکار کرنے لگا ، شیطان تو پہلے سے سر پر سوار تھا ماں نے بچے کو بھی پکڑ لیااور عاشق کے ساتھ ملکر اسے بھی بے دردی سے ق۔ت۔ل کر ڈالا ، اسکے بعد عاشق کہیں چلا گیا جبکہ عورت گھر آگئی ، گھر آکر اس نے شور مچانا شروع کردیا کہ میرے دونوں بچے غائب ہیں لگتا ہے کوئی انہیں اغ۔وا کر لے گیا ہے ، شوہر گھر آیا تو عورت نے اسے اطلاع دی مسجدوں میں اعلانات ہونے لگے ، بچوں کی تلاش شروع ہوئی تو تھوڑی دیر میں خبر آئی کہ دونوں بچے قبرستان میں مردہ حالت میں پڑے ہیں ، یہ سن کر ماں یعنی چڑیل نے رونے چیخنے اور بین ڈالنے کی ایسی ایکٹنگ کی کہ ہر کوئی اشکبار ہو گیا ۔۔۔ قصہ مختصر پولیس آئی معاملہ کی چھان بین کی گئی جب معاملہ پراسرار ہونے لگا تو ڈی پی او بھی موقع پر پہنچ گئے اس دوران کسی عورت نے ایک خاتون پولیس افسر کے کان میں یہ بات ڈال دی کہ اس عورت کے ایک نوجوان سے تعلقات ہیں اس سے پوچھو، بس پھر کیا تھا ، مذکورہ نوجوان کو تھانے لے جایا گیا ، پولیس کی کچھ نفری مق۔تول بچوں کے گھر موجود رہی ، تھانے میں جب لتر پولا شروع ہوا تو نوجوان عاشق نے ساری کہانی بیان کرنے میں ذرا دیر نہ لگائی ، تمام تفصیلات جان لینے کے بعد ڈی پی او سیالکوٹ دوبارہ اس گھر پہنچے جہاں خاتون زور شور سے بین ڈالنے میں مصروف تھی ،اسے بھی گرفتار کر لیا گیا ، مظلوم باپ اور رشتہ داروں نے ملکر معصوم بچوں کی تدفین کر دی ، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ عورت اگر گھر کو سنوار سکتی ہے تو ہنستا بستا گھر اجاڑ بھی سکتی ہے ۔۔۔

Post a Comment

0 Comments