بیٹیوں والے لازمی دیکھیں شیطان بھی شرما جائے اس درندے سے


سرگودہا: منتہا کی تدفین سے پہلے اصل مجرم کیفرکردار تک پہنچ گیا ۔۔ معصوم بچی پر کیا گزری افسوسناک تفصیلات سامنے آگئیں ۔۔۔۔۔منتہا کے گھر میں چائے بن رہی تھی ، ماں نے چینی چینی لانے کے لیے اسے قریبی اسٹور بھیج دیا۔ یہ روز کا معمول تھا گلی محلے کی بات تھی نہ ماں کے دل میں کوئی اندیشہ تھا، نہ باپ کے ذہن میں کوئی خوف۔11 بجے بچی دکان پر گئی جو چند قدم کے فاصلے پر تھی لیکن آدھے گھنٹے بعد بھی بچی واپس نہ آئی پہلے انتظار، پھر بے چینی، پھر خوف۔ اہلِ خانہ اور محلے کے قریبی گھروں نے گلیاں چھان ماریں، پڑوسیوں سے پوچھا، رشتہ داروں کو فون کیے، مگر ننھی بچی کا کوئی سراغ نہ ملا۔ جب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دیکھی گئی تو منتہا ایک دکان کے اندر داخل ہوتی نظر آئی، لیکن باہر نکلتی دکھائی نہ دی۔پولیس کو بلایا گیا جب دکان اور اسکے اوپر بنے کمرے کی تلاشی لی گئی تو وہاں سے بچی کی لا۔ش خون میں لت۔ پت برآمد ہو گئی ، ملزم فرار ہو چکا تھا مگر سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے فوری پیچھا کیا گیا اور شہر سے نکلنے کی کوشش میں لگے ملزم اور اسکے ساتھی کو گرفتار کر لیا گیا ، جنہوں نے اعتراف کیا کہ درندگی کی وجہ سے بچی چیخنے لگی تو اصل ملزم نے منہ پر ہاتھ رکھ کر سانس بند کرکے اسے مار ڈالا ایک معصوم بچی، جو ابھی زندگی کے معنی بھی نہ سمجھ سکی تھی، درندگی اور سفاکیت کا نشانہ بن گئی۔ وہ ننھی کلی جسے ابھی کھلنا تھا، جس نے ابھی خواب دیکھنا شروع بھی نہیں کیے تھے، اسے بے رحمی سے مسل دیا گیا۔اگرچہ ملزم واصل جہنم کیا جاچکا ہے لیکن اس سے کیا فر ق پڑتا ہے ظلم ہوا نہ زمین کانپی نہ آسمان رویا ، دکان کے سامنے چند گھنٹوں کے لیے ہجوم اکٹھا ہوا لیکن آج بھی زندگی ویسے ہی رواں دواں ہے ، بازار ویسے ہی کھلا ہے فرق صرف یہ پڑا کہ منتہا کے گھر میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے ماں ہر آنیوالی عورت کو کہتی ہے بچوں کا خیال رکھنا انہیں گھر سے نہ نکلنے دینا کیونکہ یہ معاشرہ نہیں جنگل ہے یہاں انسان کم اور درندے زیادہ ہیں ۔۔


 

Post a Comment

0 Comments